بھارت امریکہ کے بجائے اسرائیلی میزائل لے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت کی دائیں بازو کی مودی حکومت نے امریکہ کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کے ٹینک شکن میزائل اسرائیل سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے فوج کو جدید بنانے کے لیے کئی منصوبوں کی منظوری دی ہے جن میں اسرائیل کے ساتھ 13.1 ارب ڈالر کے میزائلوں کا سودا بھی شامل ہے۔

بھارتی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق مذکورہ معاہدے کے تحت مودی حکومت اسرائیل سے 8,356 سپائیک میزائل اور 321 میزائل لانچر خریدے گی جن کی کل مالیت 32 ارب روپے ہوگی۔

بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ اپنی فوج کی طاقت میں جلد از جلد اضافہ کیا جائے اور ان دفاعی منصوبوں پر تیزی سے عمل شروع کیا جائے جن پر عمل درآمد ایک عرصے سے رکا ہوا تھا۔

اسرائیل سے اتنی بڑی تعداد میں میزائل خریدنے کا فیصلہ بھارت نے ایک ایسے وقت کیا ہے جب گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پر فائرنگ اور گولہ باری ہو رہی ہے اور چین کے ساتھ بھارتی سرحد پر بھی تناؤ کی کیفیت ہے۔

اسرائیل سے میزائلوں کی خریداری کے معاہدے کی باقاعدہ منظوری سنیچر کو وزارت دفاع کی ’دفاعی خریداری کونسل‘ کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کی۔ اس اجلاس میں کل 800 ارب روپے مالیت کے اسلحے کے کئی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزارت دفاع کے ایک افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کونسل نے سپائیک میزائلوں کے سودے کی منظوری دی ہے۔‘

سپایئک میزائلوں کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے آپ کا نشانہ باز ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ اپنے نشانے کو ’لاک‘ کر لیتا ہے اور اس کا پیچھا کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے۔ اسی خصوصیت کے پیش نظر مذکورہ سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ ’یہ میزائل ایسا ہے کہ آپ اسے چلا کر بھول جائیں۔‘

افسر کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل کے مقابلے میں ہمارے پاس امریکہ سے ’جیولن‘ میزائل خریدنے کی پیشکش بھی موجود تھی، تاہم بھارتی فوج نے گزشتہ برس کامیابی سے سپائیک میزائل چلا کر دیکھ لیے تھے۔‘

روائٹرز کا کہنا ہے کہ کونسل کے اجلاس میں وزیر دفاع ارون جیٹلی نے شرکا کو ہدایت کی کہ اسلحے کی خریدار میں ہر قسم کی سرکاری رکاٹوں کو تیزی سے ختم کیا جائے تا کہ یہ عمل متاثر نہ ہو۔‘

دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک بھارت ہے اور یہ آج کل کئی دفاعی منصوبوں کی منظوری دے رہا جن کی کل مالیت ایک سو ارب ڈالر ہے۔ یاد رہے کہ اس سال جون میں 3.5 ارب ڈالر کے دفاعی آلات کی منظوری دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نریندر مودی کئی مرتبہ اعادہ کر چکے ہیں کہ بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کرے

مئی کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد سے قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کئی مرتبہ یہ اعادہ کر چکے ہیں کہ بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت میں اس قدر اضافہ کر لے کہ کسی میں جرات نہ ہوکہ وہ ’بھارت کو میلی آنکھ سے دیکھے۔‘

یاد رہے کہ کانگریس حکومت کے دور میں بدعنوانی کے کئی سکینڈل سامنے آئے تھے جن کی وجہ سے اسلحہ کی خریداری کے منصوبوں پر عمل درآمد تقریباً رک چکا تھا۔

گزشتہ ماہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران نریندر مودی اور صدر براک اوبامہ کے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ممالک میں دفاعی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے صدر اوبامہ کی کوشش تھی کہ بھارت امریکہ سے ’جیولن‘ میزائل خریدے۔

بھارت وزارت دفاع کے ایک دوسرے سینیئر افسر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کونسل نے اسرائیلی میزائل کی خریداری کا فیصلہ سراسر تکنیکی بنیادوں پر کیا ہے اور ہم نے صرف اعداد و شمار کو مد نظر رکھا۔

’جہاں تک اسرائیل سے مذکورہ اسلحے کی خریداری کا تعلق ہے تو یہ آلات بھارت پہنچنے میں کچھ عرصہ لگے اور یہ قسطوں میں لائیں جائیں گے۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو دفاعی خریداری کونسل نے اپنے اجلاس میں دیگر ممالک سے اسلحہ برآمد کرنے کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کے تعاون سے بھارت کے اندر چھ نئی آبدوزیں بنانے کی منظوری بھی دی جن پر 8.2 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔روزنامہ ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ آبدوزوں کے منصوبے میں کچھ فرانسیسی، روسی، جرمن اور سپین کی کمپنیاں دلچسپی رکھتی ہیں۔

بھارت کی دفاعی صنعت میں تیزی سے اضافہ کرنے کی غرض سے گزشتہ عرصے میں مودی حکومت نے بھارت کے اندر غیر ملکی سرمایہ کاری کی مقررہ حد میں بھی اضافہ کیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے مزید بتایا ہے کہ جن دیگر دفاعی اخراجات کی منظوری دی گئی ہے ان میں بھارتی بحریہ کے لیے نئے آلات کے علاوہ بری فوج کے لیے 326 انفنیٹری لڑاکا گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں