کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یوم سیاہ کے موقعے پر سری نگر میں بغیراعلان کرفیو نافذ ہے جبکہ حریت رہنماؤں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماوں کی اپیل پر پیر کو ہڑتال کی گئی اور پوری وادی میں معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں۔

یہ احتجاجی ہڑتال کشمیر میں 67 سال قبل بھارتی افواج کے داخلے کے خلاف کی گئی لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1989 میں کشمیریوں نے بھارتی کنٹرول کے خلاف مسلح تحریک شروع کی تو اس دن کی اہمیت مزید بڑھ گئی کیونکہ علیحدگی پسندوں نے ہر سال اس روز ’یوم سیاہ‘ منانے اور ہڑتال کرنے کو ایک سالانہ معمول بنا لیا ہے۔

ہر سال کی طرح پیر کو بھی 27 اکتوبر کی مناسبت سے کشمیر میں تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی کال پر پوری وادی میں ہڑتال کی وجہ سے معمول کی سرگرمیاں ٹھپ رہیں، اور کئی مقامات پر نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بعض نوجوان کہتے ہیں 67 سال قبل ہونے والے ایک تاریخی واقعے کو عوامی حافظے میں برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے محض ہڑتال کافی نہیں ہے

حکام نے اتوار کی شب ہی علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک، میرواعظ عمرفاروق اور شبیر احمد شاہ کو اپنے گھروں میں ہی نظربند کر دیا تھا۔ شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی کی گئی اور پرانے سرینگر کے تقریباً سبھی علاقوں میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ رہا۔

کشمیر میں علیحدگی پسند گروپ ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور منانے کی اپیل کرتے ہیں اور اس روز تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہتے ہیں۔

مورخین کا کہنا ہے کہ اگست 1947 میں بھارت اور پاکستان کے دو آزاد مملکتوں کی حیثیت سے دنیا میں متعارف ہونے کے بعد کشمیر میں خوں ریزی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سری نگر میں ہڑتال اور کرفیو معمول کی بات ہے

کشمیریوں نے اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کی اور پاکستان نے باغی آبادی کی مدد کے لیے پٹھان گوریلوں کی فوج یہاں بھیجی۔ بھارت کا موقف ہے کہ مہاراجہ نے باغیوں کے خلاف بھارت سے فوجی تعاون حاصل کیا اور بدلے میں کشمیر کا الحاق بھارتی حکومت کے ساتھ کیا۔

لیکن علیحدگی پسند حلقے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ الحاق نامے پر مہاراجہ کے دستخط سے قبل ہی کشمیر میں فوج بھیجی گئی تھی۔

علیحدگی پسند قیادت اور یہاں کے نوجوانوں میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ 27 اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف تھا لیکن بعض نوجوان کہتے ہیں 67 سال قبل ہونے والے ایک تاریخی واقعے کو عوامی حافظے میں برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے محض ہڑتال کافی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1989 میں کشمیریوں نے بھارتی کنٹرول کے خلاف مسلح تحریک شروع کی تو اس دن کی اہمیت مزید بڑھ گئی کیونکہ علیحدگی پسندوں نے ہر سال اس روز ’یوم سیاہ‘ منانے اور ہڑتال کرنے کو سالانہ معمول بنا لیا ہے

طالب علم ارشد حمید کہتے ہیں : ’ہر سال ہم ہڑتال کرتے ہیں۔ ہم نے گذشتہ 25 سال میں سے ساڑھے چھ سال ہڑتالیں کیں۔ اس سے ہوتا کیا ہے؟ قیادت کو چاہیے کہ 27 اکتوبر کے حوالے سے رائے عامہ ہموار کرے۔ بیشتر آبادی کو معلوم ہی نہیں کہ 27 اکتوبر کو ہوا کیا تھا۔‘

ارشد حمید جیسے متعدد طالب علموں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں علیحدگی پسندوں کو چاہیے کہ وہ فیس بک اور ٹوئٹر کو استعمال کرِیں اور نوجوانوں کو کشمیر کی تاریخ سے مانوس کریں۔

حریت کانفرنس گ کے رہنما سید علی گیلانی اکثراحتجاجی ہڑتال کی کال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیس بک یا ٹوئٹر پر احتجاجی جملے لکھنے یا مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کرنے سے عالمی برادری کشمیریوں کی طرف توجہ نہیں دے گی۔ وہ آج بھی ہڑتال کو ہی کشمیریوں کے احتجاج کی واحد صورت سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشمیر میں مختلف مواقع پر احتجاج ہوتے رہتے ہیں

مسٹر گیلانی کا کہنا ہے: ’کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو احتجاج کی آواز بلند کرنے پرگولیاں ماری جاتی ہیں۔ ہم لوگوں کو گھروں میں بند کیا جاتا ہے، ہم نے کون سے بم اور توپیں اُٹھا رکھی ہیں؟ ایسے میں صرف ہڑتال ہے جو ہمارا ہتھیار ہے۔‘

اکثر حلقے 27 اکتوبر کو مسئلہ کشمیر کا جنم دن سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد اقوام متحدہ نے جنگ بندی نافذ کی اور باغیوں نے جس قدر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا وہ آج پاکستان کے زیرانتظام ہے اور باقی حصے پر بھارت کا کنٹرول ہے۔

بعد ازاں کئی سال تک تک اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق کئی قراردادیں منظور کی گئی جن میں دونوں ملکوں کو کشمیری خطوں سے فوجیں ہٹانے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کی سفارش کی گئی۔

اسی بارے میں