’میں تو صرف مسکرا رہا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بی جے پی کی حکومت کی جانب سے غیرملکی بینکوں میں کھاتے رکھنے والے افراد کی فہرست جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو ابھی تک وفا نہیں ہو سکا ہے

بھارت میں آج کل بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کی تیاری ہے جو کچھ لوگوں نے غیر قانونی طور پر غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھا ہے۔

یہ بی جے پی کی حکومت کا وعدہ تھا اور اب لگتا ہے کہ کچھ نام منظر عام پر آنے والے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ جو نام ظاہر کیے جا سکتے ہیں ان میں کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومت کے چار رہنما بھی شامل ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق جب یہ نام ظاہر ہوں گے تو کانگریس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جب ان سے اس قیاس آرائی کے بارے میں پوچھا گیا کہ فہرست میں کانگریس کے رہنما بھی شامل ہیں تو انھوں نے جواب دیا: ’نہ میں اس کی تصدیق کر رہا ہوں، نہ تردید، میں تو صرف مسکرا رہا ہوں!‘

وزیر خزانہ سے کیا چھپا ہے؟ لیکن جب انھوں نے شرمندگی کی بات کہی تو کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ رقم اتنی کم ہے کہ ان رہنماؤں کو شرمندگی ہوگی، وہ کسی سے آنکھیں ملانے کے لائق نہیں رہیں گے؟

لوگ کیا کہیں گے، معاشرے میں کیا عزت باقی رہ جائے گی کہ سوئس بینک میں اکاؤنٹ بھی کھولا، وہ بھی اتنی سی رقم کے لیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلیک منی یا کالے دھن کے معاملے میں گذشتہ روز حکومت ہند نے چار نام ظاہر کیے

اس سے زیادہ رقم تو سابق وزیرِ مواصلات سکھ رام کے گھر میں سی بی آئی کو یہاں وہاں پڑی ملی تھی۔

سنہ 1996 میں جب سکھ رام کے گھر چھاپا پڑا تو کانگریس بر سر اقتدار تھی۔

بی جے پی نے ٹیلی کام کے شعبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی تھی کیونکہ پارٹی اپنے اصولوں سے نہ اب سمجھوتہ کرتی ہے اور نہ پہلے کرتی تھی۔

لیکن وقت ہے کہ بدلتا رہتا ہے۔ دو سال بعد ہماچل پردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے بس تھوڑے سے سہارے کی ضرورت تھی اور اس نے وہی کیا جو کسی بھی ذمے دار سیاسی جماعت کو کرنا چاہیے تھا، اس نے سکھ رام سے ہاتھ ملا لیا۔

لیکن سیاست میں یہ سب چلتا رہتا ہے۔ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا دھن ملک سے اگر باہر جاتا ہےتو ملک کے لیے یہ اچھی بات ہے یا خراب؟ ملک کو صاف ستھرا بنانا ہے تو یہ تو اچھا ہی ہے کہ ناجائز آمدنی سے نجات حاصل کی جائے لیکن لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک کے اندر جو کالا دھن ہے اس کا کیا کریں گے؟

Image caption اس سال سوئٹزر لینڈ سے 17 کھرب روپے کا سونا انڈیا لایا جاچکا ہے

مثال کے طور پر اس شخص سے کون سوال پوچھے گا کہ جس کے گھر میں تین بڑی گاڑیاں ہیں اور جو ہنی مون کے لیے سوئٹزر لینڈ گیا تھا لیکن جس کی سالانہ آمدنی صرف دو لاکھ دس ہزار روپے ہے؟

دہلی کی ایک عدالت نے اس شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی کو گزر بسر کے لیے 50 ہزار روپے ماہانہ ادا کرے کیونکہ اس کے رہن سہن سے واضح ہے کہ وہ اپنی اصل آمدنی چھپا رہا ہے۔

آپ کو شاید یہ سن کر بھی حیرت ہوگی کہ اس سال سوئٹزر لینڈ سے 17 کھرب روپے کا سونا بھارت لایا جا چکا ہے۔

تجزیہ نگار پوچھ رہے ہیں کہ کہیں ایک نئی چمک کے ساتھ یہ وہ کالا دھن ہی تو نہیں ہے جسے واپس لانے کا وعدہ کیا گیا تھا؟

اسی بارے میں