حکومت کالا دھن رکھنے والوں کے نام آج پیش کرے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم کالا دھن واپس لانے کا مسئلہ حکومت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ ہماری زندگی میں نہیں ہو گا‘

بھارت کے سپریم کورٹ نے حکومت کو آج یعنی بدھ کو ان افراد کی فہرست عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جنھوں نے غیر قانونی طریقے سے جمع کی ہوئی رقم بیرون ملک بینکوں میں رکھی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے منگل کو غیر قانونی طور پر جمع کی ہوئی رقم کے مقدمے کی سماعت میں مرکز کو ہندوستانیوں کے غیر ملکی بینکوں میں غیر قانونی اکاؤنٹس کے بارے میں یہ حکم سنایا۔

عدالت نے حکومت سے کہا ’آپ ان لوگوں کو تحفظ کیوں فراہم کر رہے ہیں جن کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹ ہیں۔‘

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر جمع کی ہوئی رقم کے معاملے میں جتنے لوگوں کے نام حکومت کے پاس ہیں وہ عدالت میں ایک بند لفافے میں پیش کرے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے عدالت کے فیصلے پر کہا ’حکومت تمام اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کو 27 جون کو سونپ چکی ہے۔ حکومت اس فہرست کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔‘

حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ دے کر ایسے تین لوگوں کے نام بتائے تھے جنہوں نے مبینہ طور پر غیر ملکی بینکوں میں غیر قانونی طریقے سے دولت رکھی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے کہا ’ہم کالا دھن واپس لانے کا مسئلہ حکومت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ ہماری زندگی میں نہیں ہو گا۔‘

جن تین لوگوں کے نام حکومت نے عدالت میں پیش نکئے تھے ان میں ڈابر کمپنی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پردیپ برمن، راجکوٹ کے کاروباری پنکج چمن لال لوڑھيا اور گوا کی کان کنی کمپنی ٹمبلو کے مالک رادھا ایس ٹمبلو شامل ہیں۔

اسی بارے میں