سری لنکا: مٹی کے تودے گرنے سے’100 افراد کی ہلاکت کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی اہلکاروں نے 300 لاپتہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

سری لنکا کے وسطی علاقے میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے اور زمین کھسکنے کے واقعات میں خدشہ ہے کہ کم از کم ایک سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلع بدولا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 140 مکانات زمین میں دھنس گئے ہیں۔

سری لنکا میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی گئی تھی اور مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ بدھ کی صبح ہلڈومولا قصبے میں شروع ہوا۔

ڈیزازسٹر مینیجمنٹ کے ترجمان سرات کمارا نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان کی لاشیں ملبے سے برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے 300 لاپتہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجمدار کا کہنا ہے کہ موسم نسبتاً بہتر ہونے کے باعث پولیس، فوج اور فضائیہ نے امدادی کارروائیوں کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن دھند کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

آفات سے بچاؤ کے محکمے نے ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ شید بارشوں کے بعد لینڈ سلائڈنگ کے واقعات ہو سکتے ہیں۔

Image caption آفات سے بچاؤ کے محکمے نے ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کو خبردار کیا تھا

لینڈ سلائیڈنگ کا سب سے مہلک واقعہ کولمبو سے 200 کلومیٹر دور ہلڈمُولا کے قصبے کے قریب پیش آیا جب بدھ کی صبح میریابیدا کے چائے کے باغات اور ان کے ارد گرد کی آبادی میں زمین کے بڑے بڑے تودے شدید بارش میں بہہ گئے۔

قدرتی آفات سے بچاؤ کے وزیر مہندرا امررویرا نے برطانوی خبر رساں ادارے رو،ٹرز کو بتایا ہے کہ خدشہ ہے کہ اب تک ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

’ شدید موسم اور تاریکی کی وجہ سے ہم نے اس وقت علاقے میں امدادی کارروائیاں رول دی ہیں، لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے مزید واقعات ہو سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق 500 فوجی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

سری لنکا کے صدر مہندرا راجا پاکسا نے ایک ٹؤیٹ میں کہا کہ امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بڑی بڑی مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔

سری لنکا کی فوج کے میجر جنرل مانو پیریرا نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ کچھ گھر تو تیس فٹ تک کیچڑ میں دھنس چکے ہیں۔

حکام کے مطابق سری لنکا کی نیشنل ہائی وے کے کچھ حصے مکمل طور پربارشوں میں بہہ گئے ہیں۔

ملبے تلے دبی ایک خاتون نے جسے بچا لیا گیا، مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ ملبے تلے دبی ہوئی تھی جب کچھ لوگوں نے اسے باہر نکالا لیکن ان کی والدہ اور خالہ ہلاک ہوگئی ہیں۔

سری لنکا میں جون میں بھی مون سون کی بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے 22 افراد ہلاک جب کہ ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔

مون سون کی بارشیں بحر ہند میں اٹھنے والی شدید ہواؤں کے باعث ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں