’نیلوفر‘ کی آمد سے قبل ہزاروں محفوظ مقامات پر منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بھارتی بحریہ اور فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے

بھارتی ریاست گجرات میں حکام نے سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کی آمد سے قبل ہزاروں افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

بحیرۂ عرب میں اٹھنے والا یہ طوفان سنیچر کی صبح تک بھارت کے مغربی ساحل پر پہنچے گا۔

بھارتی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

’نیلوفر‘ طوفان بھارت کا رخ کرنے سے پہلے پاکستان سے سب سے بڑے شہر کراچی سے 250 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ اس طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں صوبہ سندھ اور بلوچستان کے متعدد ساحلی اضلاع میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

بھارت میں طوفان ریاست گجرات کے ضلع کچھ سے ٹکرائے گا۔ وہاں کے سینیئر سرکاری اہلکار ایم ایس پٹیل نے خِبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اب تک 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان ’نیلوفر‘ کی وجہ سے کچھ اور شورشترا کے اضلاع میں شدید بارش ہوگی اور گجرات کی ریاست میں تمام ساحلی مقامات پر سمندر میں تلاطم رہے گا۔

بھارتی حکام نے سمندر میں گئے ہوئے ماہی گیروں کو واپس آنے اور ساحلی دیہات کے باسیوں کو چوکس رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ساحلی علاقوں میں سکول اور کالج دو دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں اور 200 امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔

بھارت میں سمندری طوفان ماضی میں بھی تباہی مچاتے رہے ہیں اور 1999 میں ریاست اڑیسہ میں آنے والے سپر سائیکلون سے دس ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی بھارت کے مشرقی ساحل سے ’ہدہد‘ نامی طوفان ٹکرایا تھا جس سے 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا تھا۔

اس طوفان کی وجہ سے بھی ساڑھے تین لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں