کیرالہ:عوامی مقامات پر بوسوں کےلیے مہم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیرالہ میں پولیس نے ایک ہندو تنظیم کے مبینہ ظلم و ستم کے خلاف بطور احتجاج عاشقوں کو عوامی طور پر بوس و کنار کی اجازت نا دینے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ریاست کے معروف شہر کالی کٹ کے ایک کیفے میں ہندو تنظیم کے کچھ کارکنوں نے یہ کہتے ہوئے توڑ پھوڑ مچائی تھی کہ اس جگہ کا استعمال ڈیٹنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔

اس کی مخالفت میں نوجوان کارکنان نے کوچی کے میرین ڈرائیو پر آئندہ اتوار کو جمع ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عاشق جوڑے یہاں پر بطور احتجاج جمع ہوں گے اور ایک دوسرے کو بوسہ دے کر اپنی ناراضی کا ا ظہار کریں گے۔

لیکن پولیس شاید اس کی اجازت نہ دے۔ کوچی کے پولیس کمشنرکے جی جیمز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس احتجاج کے لیے اب تک کوئی باضابطہ اجازت نہیں لی گئی ہے۔

کے جی جیمز نے کہا ’ میں انھیں وارننگ دے چکا ہوں کہ وہ عوامی مقامات پر ’کس‘ نہیں کر سکتے۔ اس سے امن و امان کے لیے مشکلیں کھڑی ہوں گی۔ ہم اس کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔‘

فیس بک پر زبردست حمایت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ’ کس آف لو‘ کی مہم’فری تھنكرز‘ نامی ایک گروپ نے چلا رکھی ہے۔ ویب سائٹ پر ایک بڑا گروپ سرگرم ہے جسے کو کافی حمایت مل رہی ہے۔ اس کی قیادت شارٹ فلم میکر راہل پسپالن کر رہے ہیں۔

راہل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک دن پہلے پولیس افسران کے پاس گئے تھے اور عاشقوں کے اس پروگرام سے متعلق تحریری درخواست لے کر گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’ ان کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیاہے۔ لیکن ہم اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔‘

اس سے متعلق فیس بک پر ان کی پوسٹ کو 20 ہزار سے زیادہ لائكس مل چکے ہیں۔

اندازہ ہے کہ اس احتجاج میں شامل ہونے کے لیے کئی سو عاشق جوڑے جمع ہوں گے۔ تمام مظاہرین تختیوں اور پلے کارڈز کے ساتھ وہاں ’محبت کرنےاور بوسہ‘ کے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

بوس و کنار کے حق کے لیے ہونے والے اس احتجاجی مارچ میں اب صرف چند روز بچے ہیں۔ بہت سے مصنف، فلم ساز اورمختلف کارکنان نے اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کئی ایک نے اس میں شامل ہونے کا بھی اعلان کیا ہے۔

’ کس آف لو‘ کو ہندوستانی ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئےبعض ہندو تنظیموں اور مسلم بنیاد پرستوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی کیرالہ یونٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے پروگرام کامیاب نہ ہو پائیں، اس کے لیے وہ تمام ضروری اقدامات کرےگی۔

وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ عوامی طور پر بوس و کنار ہندوستانی تہذيب و ثقافت کے خلاف ہے اس لیے وہ اس کی مخالفت کر رہی ہے لیکن وہ اس احتجاجی پروگرام کو روکنے کے لیے قانون اپنےہاتھ میں نہیں لے گی۔