بھارت:اعلیٰ افسران کےفرسٹ کلاس سفر پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت کے اقدامات کا مقصد بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے

بھارت میں حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے افسر شاہی کے درجۂ اول کے فضائی سفر، فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام اور گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

حکومتی اقدامات کا مقصد رواں سال کے مالی بجٹ کے خسارے کو چار اعشاریہ ایک پر لانا ہے۔

بھارت میں گذشتہ کئی سالوں سے معاشی ترقی کی شرح سست روی کا شکار ہے اور رواں مالی سال کے لیے ترقی کی شرح کا ہدف 4.7 رکھا گیا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ انتخابات میں اقتصادی ترقی کے نعرے پر کامیابی حاصل کی تھی۔

کانگریس کی سربراہی میں قائم گذشتہ حکومت نے سال 2012 اور 2013 کے مالی سال میں اسی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے وزارتِ خزانہ کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کے حالیہ بچت اقدامات کا مقصد حکومت کی آپریشنل صلاحیتوں کو قائم رکھتے ہوئے مالی توازن لانا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اخراجات کا درست استعمال اور موجودہ وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افسران کو ہر ممکن طور پر فرسٹ کلاس فضائی سفر کرنے سے روکا گیا ہے

حکومت کے بچت کے حوالے سے مزید اقدامات میں سرکاری نوکریوں پر پابندی اور کاروں کی خریداری پر تقریباً مکمل پابندی ہو گی۔

اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میٹنگز کی جائیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اگرچہ افسران کو سینیارٹی کی بنیاد پر مختلف درجوں کے فضائی سفر کی سہولت حاصل ہے تاہم ہر صورت میں محدود بجٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکانومی کلاس کو ترجیح دی جائے جبکہ فرسٹ کلاس میں کوئی بکنگ نہیں کرائی جائے گی۔

حکومت کے حالیہ اقدامات میں آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارے کو 3.6 فی صد پر لانا ہے جبکہ سال 2016 اور 2017 کے مالی بجٹ میں اس خسارے کو تین فی صد کی سطح پر لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نریندر مودی نے مئی کے عام انتحابات میں فتح کے بعد معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور نئی نوکریاں پیدا کرنے کا عزم کیا تھا۔ بھارت میں اس وقت ہر ماہ 10 لاکھ افراد نئے افراد کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں