سکھ فسادات‎ رپورٹ پر 30 برس بعد بھی پابندی

سکھ مخالف فسادات تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکھ مخالف فسادات پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کئی اہم سوال اٹھائے گئے تھے

سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات کو ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں کئی سوالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔

یہ بحث بھی چلتی رہتی ہے کہ سکھوں کے قتل کو فسادات کا نام دیا جائے یا ’قتل عام‘ کہا جائے۔ اس سے متعلق سب سے اہم تصور کی جانے والی ایک رپورٹ کو آئے ہوئے تیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس پر اب بھی پابندی عائد ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں، پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹز اورپیپلز یونین فار سول لبرٹيزنے ’ہو آر دی گلٹی؟‘ کے نام سے ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

یہ رپورٹ 11 نومبر سنہ 1984 کو جاری کی گئی اور دو فروری1985 کو اس پر ریاست پنجاب کی حکومت نے پابندی لگا دی۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے تشدد سے متعلق ہوئی ہرتفتیش اور ہر کمیشن میں اس رپورٹ کو اہم ماناگیا ہے۔ انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کی دستاویزات میں اس رپورٹ کا حوالہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

انگریزی کے بعد ’جمہوری ادھیکار سبھا پنجاب‘ نے اس رپورٹ کو پنجابی زبان میں ’مجرم کون؟‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔

سبھا کے جنرل سیکرٹری پروفیسر جگموہن سنگھ بتاتے ہیں کہ ’پنجاب میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بھی طرح کے تشدد کے امکانات کو کم کرنے کے مقصد سے اس رپورٹ کو پنجابی میں چھاپنا ضروری سمجھا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ashok Vahie

ان کا کہنا ہے کہ ’اس رپورٹ میں دہلی میں تشدد کے لیے ذمہ دار لوگوں کے بارے میں تفصیل تھی تو سکھ برادری کی مدد کرنےوالے دوسرے مذاہب کے لوگوں کا بھی نام تھا۔‘

اس رپورٹ پر دو فروری 1985 کو پابندی لگائی گئی۔ اس کے بعد 12 فروری کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ رپورٹ دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان ’نفرت پھیلانے‘ اور ’دشمنی پیدا‘ کرنے کا کام کر سکتی ہے۔

اسی کو بنیاد بنا کر حکومت نے اس رپورٹ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پروفیسر جگموہن کا کہنا ہے کہ ’یہ پابندی غیر جمہوری ہے۔ اسےہم نے تب بھی چیلنج کیا تھا۔ حکومت نے نا تو پابندی ہٹائی اور نہ ہی ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی۔ لیکن یہ پابندی ہونی نہیں چاہیے۔‘

حیرت اس بات پر ہے کہ پابندی کے ساتھ ساتھ اس رپورٹ کوکسی اور زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی روک لگی ہوئی ہے۔

’پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹز‘ کے کارکن گوتم نولكھا اس پابندی کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ حکومت کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مسلسل نفرت پھیلانے والی تنظیمیں سرگرم ہیں اور جس رپورٹ کو ہر حکومتی کمیشن اہم مان چکاہے اس پر پابندی لگی ہوئی ہے۔‘

ریاست پنجاب میں ’پیپلز یونین فار سول لبرٹيز‘ کے ترجمان ارجن شیرون کا کہنا ہے کہ ’فرقہ وارانہ تشدد کی تاریخ ناانصافی پر مبنی رہی ہے۔ یہ پابندی بھی اسی ناانصافی کی کڑی ہے۔‘

اس مسئلے پر پنجاب حکومت کے حکام سے بات کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن بات کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوا۔

اسی بارے میں