ہم شکست تسلیم کرتے ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption راہول گاندھی شاید ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یہ بیان دیتے ہیں۔ وہ صرف شکست تسلیم کرتے ہیں، ذمہ داری نہیں

’ہم شکست تسلیم کرتے ہیں‘

ہندوستان کی سیاست میں سب کچھ بدل رہا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی ہر روز نئے محاذ فتح کر رہے ہیں اور کانگریس اور باقی چھوٹی موٹی علاقائی جماعتیں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

بس ایک چیز نہیں بدلتی۔ ہر نئی شکست کے بعد کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی ایک اچھے سپورٹس مین کی طرح اعلان کرتے ہیں کہ ’ہم اپنی شکست تسلیم کرتے ہیں، پارٹی عوام کے جذبات اور ان کی آرزوؤں کا احترام کرتی ہے۔۔۔‘

لیکن ہر الیکشن کے بعد یہ سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ اگر آپ شکست تسلیم نہ بھی کریں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا الیکشن کمیشن دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے دے گا یا نریندر مودی اور ان کے سپہہ سالار اعلی امت شاہ پریشانی میں سر جوڑ کر بیٹھ جائیں گے، یہ سوچنے کے لیے کہ راہول گاندھی نے تو شکست تسلیم نہیں کی، اب کیا کریں؟ یا عوام یہ کہتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئیں گےکہ ’ارے، دیکھو بی جے پی جیتی ضرور ہے لیکن کانگریس ہاری نہیں ہے، ہارتی تو راہول شکست ضرور تسلیم کرتے!‘

اور جہاں تک عوام کے جذبات اور ان کی آرزوؤں کا سوال ہے، ان کا احترام اگر انتخابی نتائج سے پہلے بھی کیا جائے تو شاید بار بار شکست تسلیم کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یا پھر شکست انتخابات سے پہلے ہی تسلیم کر لی جائے، محنت بھی بچے گی اور سرکاری خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا!

لیکن راہول گاندھی شاید ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یہ بیان دیتے ہیں۔ وہ صرف شکست تسلیم کرتے ہیں، ذمہ داری نہیں! اور ٹھیک بھی تو ہے، ایک لیڈر سارے کام تو نہیں کرسکتا، اگر وہ شکست بھی تسلیم کریں اور ذمہ داری بھی تو لوگوں کو یہ شکایت ہوگی کہ پارٹی صرف ایک ہی شخص کے ارد گرد گھومتی ہے، باقی قیادت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

اتوار کو جب مہارشٹر اور ہریانہ سے کانگریس کے صفائے کی خبریں آرہی تھیں تو راہول گاندھی آندھر پردیش میں ہد ہد نامی طوفان سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے تھے۔

اس وقت کانگریس کی حالت بھی طوفان سے متاثر علاقوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ راہول کو اطلاع ہوگی تو وہ اظہار ہمدردی کے لیے ضرور آئیں گے۔

پہلے چائے والا اب مرغی والا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سششما سوارج ہیں جنہوں نےایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر سونیا گاندھی وزیر اعظم بن گئیں تو وہ اپنا سر منڈوا لیں گی

بہرحال، اگر اس تاریک صورتحال میں گاندھی خاندان کے لیے کوئی خوشی کی خبر ہے تو وہ وزیر خارجہ سشما سوارج کے گھر سے آئی ہے۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ سشما سواراج بھی وزیراعظم کے عہدے کی دعویدار تھیں لیکن ’چائے بیچنے والے‘ مودی کی غیر معمولی مقبولیت کے سامنے ٹک نہیں پائیں۔ کچھ دن ناراض رہیں پھر وزارت خارجہ کے قلمدان پر اکتفا کر لیا۔

یہ وہی سششما سوارج ہیں جنہوں نےایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر سونیا گاندھی وزیر اعظم بن گئیں تو وہ اپنا سر منڈوا لیں گی! ظاہر ہے کہ گاندھی خاندان انہیں زیادہ پسند نہیں کرتا ہوگا۔

ہریانہ کے ریاستی الیکشن میں ان کی بہن بھی میدان میں تھیں، لیکن مودی کی لہر کے باوجود ہار گئیں۔

الیکشن میں تو ہار جیت ہوتی ہی رہتی ہے، بس یہ بات اور ہے کہ آجکل ایک پارٹی مستقل جیت رہی ہے اور ایک مستقل ہار رہی ہے، لیکن اخبار والوں کو کون سمجھائے۔ ایک اخبار کا کہنا ہے کہ سشما کی بہن جس شخص سے ہاری ہیں، وہ مرغیوں کا کاروبار کرتا ہے!

لگتا ہے کہ چائے بیچنے والے اور مرغیوں کا کاروبار کرنے والے سشما سواراج کو راس نہیں آتے۔

گندگی کی البم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی جے پی اور عام آدٹی پارٹی کے لوگ دونوں ایک دوسرے کوگندے سرکاری ٹائلٹس کی تصاویر بھیج رہے ہیں

اب اگلا دلچسپ سیاسی مقابلہ دلی میں ہوسکتا ہے اور لگتا یہ ہے کہ ٹکر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہوگی۔ اور تیاری میں دونوں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے۔

دونوں ایک دوسرے کوگندے سرکاری ٹائلٹس کی تصاویر بھیج رہے ہیں۔ شروعات عام آدمی پارٹی نے کی تھی، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وزیر اعظم نے صاف ستھرے ہندوستان کے لیے جو مہم شروع کی ہے وہ ایک نعرے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور خود بی جے پی کے زیر انتظام علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ جواب میں بی جے پی نے بھی مسٹر کیجریوال کے انتخابی حلقے کی کچھ تصاویر انہیں بھیجی ہیں۔

اب ان تصاویر کی ایک البم تیار کی جارہی ہے، ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں جو بھی پارٹی جیتے گی، حلف برداری کے دن اس کے سپرد کر دی جائے گی!

اسی بارے میں