’میں خوفزدہ ہوں، بہت خوفزدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ایک تاریخ دان کے بقول ہم ایسے ہنگاموں کو ملکی سیاست میں بڑی تبدیلیوں سے الگ نہیں کر سکتے۔

گذشتہ ہفتے دہلی کے علاقے ترلوکپوری میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جگھڑے ہوئے انھیں ذرائع ابلاغ میں کوئی خاص اہمیت نہ دی گئی اور نہ ہی کسی نے انھیں شہ سرخی بنایا۔

زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے جب علاقے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان گلیوں اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے گئے، دو دکانوں کو آگ لگائی گئی اور ایک دوسرے کی املاک کو لوٹا گیا تو ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو علاقے کے باہر سے مدد حاصل تھی۔ ان ہنگاموں میں کل 35 لوگ زخمی ہوئے جن میں سے پانچ ایسے تھے جنھیں گولیاں ماری گئی تھیں۔پولیس نے 60 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔

ترلوکپوری میں ہونے والی اس ہنگامہ آرائی کو اہمیت دینا کیوں اہم ہے؟

تاریخ دان مُکل کاسون کہتے ہیں کہ ’بھارت میں مختلف مذاہب کے درمیان فسادات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم ایسے ہنگاموں کو ملکی سیاست میں بڑی تبدیلیوں سے الگ نہیں کر سکتے۔‘ اگر ترلوکپوری کے ہنگاموں کو ملکی سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ہنگامے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند ماہ پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی ایک زبردست انتخابی کامیابی کے بعد حکومت میں آ چکی ہے۔ اگرچہ اس بات کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان ہنگاموں میں بی جے پی کا بھی کوئی ہاتھ تھا، لیکن مسٹر مُکل کاسون کا خیال ہے کہ ’ان ہنگاموں کے ذریعے ہندو انتہاپسند دیکھنا چاہتے ہیں کہ بے جے پی کی اتنی بڑی کامیابی کے بعد سیاسی طور پر مزید کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔‘

جہاں تک ترلوکپوری کے علاقے کا تعلق ہے تو یہ دہلی کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جس کی کوئی خاص شناخت نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1984 میں اس بستی میں سکھوں کے خلاف تاریخ کے سب سے برے فسادات شروع ہو گئے تھے

اس علاقے کی ابتدا سنہ 1976 میں اس وقت ہوئی جب کانگریس حکومت نے ملک میں ایمرجنسی لگا رکھی تھی اور وہ دہلی میں کچی آبادیوں کے خاتمے کے منصوبے پر عمل پیرا تھی۔ شہر کی کچی بستیوں سے جن غریب اور معاشرتی طور پر پسماندہ لوگوں کو نکال باہر کیا گیا، انہوں نے ترلوکپوری میں آ کر پناہ لی اور یہاں بس گئے۔ سنہ 1984 میں یہ بستی اس وقت مذہبی فسادات کے حوالے سے بری طرح بدنام ہوئی جب ملک میں سکھوں کے خلاف تاریخ کے سب سے برے فسادات شروع ہو گئے۔ ان فسادات کے دوران 2,700 سے زائد سکھوں کو مار دیا گیا تھا جن میں سے 350 دہلی کے اِس علاقے میں مارے گئے۔

گنجان آباد

آج ترلوکپوری کا علاقہ ایک بے ہنگم بستی کا نقشہ پیش کرتا ہے، لیکن یہاں زیادہ تر امن ہی رہتا ہے۔

یہاں کی گلیاں اس قدر تنگ ہیں کہ آپ کا دم گھٹتا ہےاور پورا علاقہ کسی بڑے شہر کی ایسی مضافاتی بستی کی تصویر ہے جہاں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد گندگی اور کم کرائے کے تنگ و تاریک مکانات میں رہ رہی ہے۔ یہ علاقہ دہلی اور نوئڈا کے شہری علاقوں میں کام کرنے والے بے شمار راج مستری، بڑھئی، گھریلو کام کاج کرنے والی عورتیں، سکیورٹی گارڈ، فیکٹریوں کے مزدور اور دفتروں میں کام کرنے والے کچھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد فراہم کرتا ہے۔

Image caption بھارت میں اس قدر تیزی سے شہروں کی آبادی بڑھنے سے کیا اچھا ہو رہا اور کیا برا۔

یہاں پر پرانے خستہ حال مکانات ہر وقت گرائے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئی تعمیرات ہوتی رہتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں کی گلیوں اور تنگ سڑکوں پر ہر وقت اینٹوں کے انبار نظر آتے ہیں۔ یہی انیٹیں ہنگاموں کے دوران متحارب کارکنوں کے لیے میزائل کا کام دیتی ہیں جو وہ بے دریغ ایک دوسرے پر پھنکنا شروع کر دیتے ہیں۔

ترلوکپوری کے 36 ’بلاک‘ ہیں جن میں کم و بیش ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ رہتے ہیں جن میں اکثریت دلّتوں (جنھیں ماضی میں اچھوت کہا جاتا تھا) اور مسلمانوں کی ہے۔ ہر بلاک کے ساتھ ایک چھوٹا سا پارک بھی ہے جن میں سے کئی پارک صرف خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ علاقے میں ایک درجن سے زیادہ سرکاری سکول ہیں اور ایک ڈسپنسری بھی ہے۔ ایک چھوٹے سے کمرے کا کرایہ 3,500 روپے ہے اور یہاں ایک گھر کی قیمت 30 لاکھ تک ہے۔ مقامی لوگ یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتے ہیں کہ جب دہلی کی میٹرو ٹرین سروس یہاں تک آ جائے گی تو یہاں پراپرٹی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

یہاں پر ریستوران، بیوٹی پارلر، دکانیں سبھی کچھ موجود ہے، جہاں آپ کپڑوں سے لے کر موبائل فون اور مشہور ناموں کے جوتے، سبھی کچھ خرید سکتے ہیں۔ پھیری والے اپنی ریڑھیاں لیے ادھر سے ادھر چکا لگاتے دکھائی دیتے ہیں جن سے آپ سبزیاں اور چٹ پٹے کھانے خرید سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے یہاں بجلی پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ہندو، مسلمان، مقامی، غیر مقامی ہر کوئی یہاں گذشتہ کئی دہائیوں سے مزے میں رہ رہا ہے اور کسی کا پاؤں دوسرے کے پاؤں پر نہیں آ رہا۔ آج یہ کہنا کہ ترلوکپوری ایک ایسی بستی ہے جہاں مذہبی منافرت کی آگ پائی جاتی ہے، اس علاقے کے محنتی لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو اتنے عرصے سے معاشرتی ہم آہنگی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پرلوکپوری کے 36 ’بلاک‘ ہیں جن میں کم و بیش ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ رہتے ہیں

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ یہاں کوئی مسائل نہیں ہیں۔

کئی اعتبار سے ترلوکپوری کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں اس قدر تیزی سے شہروں کی آبادی بڑھنے سے کیا اچھا ہو رہا اور کیا برا۔

یہاں کے خستہ حال گھروں کے اندر آپ کو موبائل فون، فریج سے لے کر کیبل ٹیلی ویژن تک ہر چیز دکھائی دے گی۔بلکہ یہاں تک کہ ایک مقامی لڑکے نے اس وقت برا منایا جب میں نے ’موبائل فون‘ کا لفظ استعمال کیا، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ’سمارٹ فونز‘ کو میں محض موبائل فون کہہ کر ان کی توہین کر رہا ہوں۔

ان سہولتوں کے باوجود یہاں پر تعلیمی سہولیات کا حال برا ہے۔ مقامی سکولوں میں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اساتذہ اکثر سکول سے غیر حاظر ہوتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں کے جو لڑکے اور لڑکیاں دہلی کے اچھے کالجوں میں داخلے کی درخواست دیتے ہیں تو ان کے میٹرک کے نتائج اتنے اچھے نہیں ہوتے کہ دہلی کے کالج انھیں قبول کریں۔ لامحالہ زیادہ تر لڑکے اور لڑکیاں گھر بیٹھے مختلف کورس کرتے رہتے ہیں جن کی بنیاد پر انھیں روزگار کے مواقع کم ہی ملتے ہیں۔ ان لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت کو اس وقت تعلیم چھوڑنا پڑ جاتی ہے جب ان کے والدین کا روزگار ختم ہو جاتا ہے۔

Image caption ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب دیوالی کی رات گھروں کے درمیان قائم ایک عارضی ہندو مندر کے باہر جمع لوگ شراب کے نشے میں ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔

شراب نوشی، جوا اور لڑائی جگھڑا ان بےروزگار اور ناامید لڑکوں کا اٹھنا بیٹھنا بن جاتا ہے۔

صحافی بننے کے خواہش مند 18 سالہ سورج کے بقول: ’ ہمیں ہر وقت بے چینی رہتی ہے۔ ہم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے پاس کوئی مواقع نہیں، آگے بڑھنے کی کوئی امید نہیں۔ اس کا نتیجہ یہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔‘

نشے میں غل غپاڑہ

گذشتہ ہفتے ہونے والی ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب دیوالی کی رات گھروں کے درمیان قائم ایک عارضی ہندو مندر کے باہر جمع لوگ شراب کے نشے میں ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔

یہ عارضی مندر اس مسجد کے محض 50 میٹر دور تھا جو 38 سال پہلے علاقے کے مسلمانوں نے تعمیر کی تھی۔ آپ جس سے پوچھیں وہ یہی کہےگا کہ عارضی مندر کے لاؤڈ سپیکر سے مسلسل نشر کی جانے والی موسیقی سے مسجد کے اندر موجود نمازی تنگ پڑ رہے تھے۔

یہ بالکل واضح نہیں کہ مندر کے قریب مسلمان اور ہندو نوجوانوں کے درمیان لڑائی جگھڑے کا آغاز کیوں ہوا۔ مقامی پھل فروش زین العابدین کا کہنا تھا کہ مسجد کے بالکل سامنے ایک قدیم ہندو مندر موجود ہے اور دونوں عبادت گاہوں کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔

ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ اصل جگھڑا اور لڑائی دیوالی کی رات کے بعد صبح اس وقت شروع ہوئی جب ٹیکسٹ میسج اور سنائی سنائی افواہوں پر مبنی پیغامات ایک دوسرے کو بھیجے جانے لگے۔

کئی مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کا آغاز بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سنیل وادیا نے کروایا، لیکن سنیل وادیا اس الزام کی بھرپور تردید کر رہے ہیں۔ ہنگامے کے دوران ایک دو منزلہ دکان کو آگ لگا دی گئی جس کا مالک ایک مسلمان ہے۔ موبائل فون پر اس واقعے کی ویڈیو میں آپ صاف دیکھ سکتے ہیں کہ جینز اور جاگر پہنے ہوئے نوجوان، جنھوں نے چمکدار ہیلمٹ بھی پہنے ہوئے ہیں، سڑک کی دوسری جانب پتھر، ایٹیں اور کانچ کی بوتلیں پھینک رہے ہیں۔ان نوجوانوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں کوئی جنگ کی کیفیت نہیں، بلکہ وہ غصے میں چیزیں ادھر ادھر پھپینک رہے ہیں۔

Image caption شراب کے نشے میں شروع ہونے والا یہ غل غپاڑہ کب اور کیوں ایک مذہبی ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔

مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں پولیس نہ صرف تماشی بنی رہی، بلکہ اہلکاروں نے خود مسلمانوں کی کچھ ٹیکسیوں کو نقصان پہنچایا اور ہندو لڑکوں کو اپنے غصے کے اظہار کا پورا موقع بھی دیا۔

عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی رکنِ اسمبلی راجو دھنگن کے بقول:’میں 30 سال سے یہاں رہ رہا ہوں، مگر ایسا کبھی پہلے نہیں دیکھا۔ یہاں ہندو اور مسلمان ہمیشہ امن و آشتی میں رہے ہیں۔ اس ہنگامے سے پہلے میرا خیال یہی تھا کہ یہاں پر ہنگامے اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔‘

دیوالی پر ہونے والے ہنگاموں کے ایک ہفتے بعد بھی ترلوکپوری کی گلیوں میں سرخ اینٹوں کی خاک اور ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے ہوئے ہیں، یہاں لوگ خوفزدہ ہیں، پولیس کے حکم پر اپنےگھروں میں دبکے ہوئے ہیں اور کوئی بھی کام پر نہیں جا پا رہا۔

کوئی نہیں جانتا کہ شراب کے نشے میں شروع ہونے والا یہ غل غپاڑہ کب اور کیوں ایک مذہبی ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔

پانی کے نلکوں وغیرہ کی مرمت کرنے والے مزدور شوکت علی پریشان ہیں۔

’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔میں خوفزدہ ہوں، بہت خوفزدہ۔‘

اسی بارے میں