کشمیر: انتخابی مہم سے پہلے گرفتاری مہم

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption یاسین ملک کی گرفتاری کے بعد سری نگر میں احتجاج ہوا اور پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی حکومت نے علیحدگی پسندوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کردیا ہے اور بیشتر مزاحمتی کارکنوں اور رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس دوران یوم عاشورہ کی تقریبات پر پچھلے پچیس سال سے مسلسل پابندی ہے اور اس سال بھی شعیہ رہنماوں کو عزہ داری اور مجالس کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کشمیر میں اختلاف رائے کے جمہوری ذرائع مسدود کرکے دوبارہ تشدد کی راہ ہموار کررہی ہے۔ گرفتاریوں اور پابندیوں کے خلاف مختلف مقامات پر نوجوانوں نے مظاہرے کئے۔

واضح رہے کشمیر میں حالیہ سیلاب سے ہوئی تباہی کا ابھی حساب ہی لگایا جارہا تھا کہ حکومت نے مقامی اسمبلی کی ستاسی نشتوں کے لیے عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان ہوتے ہی علیٰحدگی پسندوں کے خلاف پولیس نےکریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ سید علی گیلانی کو گھر میں نظربند کردیا گیا ہے جبکہ شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور نعیم خان سمیت درجنوں رہنماوں کو مختلف جیلوں میں قید کردیا گیا ہے۔ ان کاروائیوں کے خلاف مزاحمتی حلقوں میں زبردست غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے اعلان کیا ہے کہ آزادی کی تحریک سے وابستہ سبھی گروپ انتخابات کے خلاف مہم چلائیں گے۔

میرواعظ عمر کا کہنا ہے: ’یہ سب توقع کے خلاف نہیں ہے۔ حکومت ہند اور اس کی پشت پناہی والے سیاسی گروہ یہاں کے اقتدار پر ناجائز طریقوں سے قابض ہوکر یہاں کی آزادی پسند قیادت کو قید کرتی رہی ہے۔ لیکن ہم ان انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور عوام سے ان انتخابات سے دور رہنے کی بھی اپیل کرتے ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند جب حکومت مخالف جلوسوں کی قیادت کرتے ہیں اور اس دوران تشدد کا خطرہ ہوتا ہے۔ کشمیر پولیس کے سربراہ کے راجندرا کمار نے کہا ہے کہ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کی گئی جس کے تحت 25 نومبر سے ہونے والے مرحلہ وار انتخابات کے دوران سیکورٹی انتظامات کئے جائیں گے۔

مسٹر کمار کا کہنا ہے کہ کشمیر میں صرف ڈیڑھ سو مسلح شدت پسند سرگرم ہیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال زیادہ تعداد میں مسلح شدت پسندوں کو آپریشنوں کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے انتخابات کے حوالے سے ابھی ہند نواز سیاسی گروپوں کی مہم سے پہلے ہی پولیس نے الیکشن مخالف گروپوں کے رہنماوں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ کئی گروپوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیاسی اختلاف کے جمہوری راستوں کو مسدود کرکے کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔

دریں اثنا شعیہ آبادی میں بھی حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ حکام نے یوم عاشورہ کے حوالے سے مجالس اور جلوسوں پر ایک بار پھر پابندی عائد کردی ہے۔ اس حوالے سے میرواعظ عمرفاروق نےعالمی براداری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں حالیہ سیلاب سے ہوئی وسیع تباہی کے باوجود بھارتی الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر میں مقامی اسمبلی کی 87 نشتوں کے لیے 25 نومبر سے مرحلہ وار انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے۔

کشمیر کے انتخابات میں روایتی طور پر نیشنل کانفرنس ، کانگریس اور پی ڈی پی کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے، لیکن نئی دلّی میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد اب کشمیر کی انتخابی جنگ چوطرفہ ہوگئی ہے۔

بی جے پی کے الیکشن انچارچ امیت شاہ نے کشمیری سیاسی گروپوں کو للکارتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کشمیر کی 87 میں سے 44 سیٹوں پر فتح پائے گی اور اپنے بل پر حکومت بنائے گی۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کئی مرتبہ کشمیر، جموں اور لداخ کا دورہ کرچکے ہیں۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں پہلی مرتبہ بی جے پی کو چھ میں سے تین سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی تھی۔