بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میر قاسم علی کو جماعت اسلامی پارٹی کے اہم مالی تعاون کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما میر قاسم علی کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی کو یہ سزا بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی کی جنگ کے دوران تشدد، قتل اور اغوا جیسے جرائم کے الزمات میں سنائی گئی ہے۔

62 سالہ میر قاسم علی کو جنگی جرائم کی ٹرائبیونل نے سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم کا مرتکب پایا ہے۔

انھیں جماعت اسلامی پارٹی کو مالی وسائل مہیا کرنے والی اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جماعت کے فیصلہ سازی کے عمل میں بھی انھیں مرکزی اہمیت حاصل تھی۔

ماضی میں اس طرح کی سزاؤں پر ملک گیر پیمانے پر تشدد کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت کے بعد آیا ہے۔ انھیں بھی انھی الزامات میں سزائے موت سنائی گئي تھی۔

پاکستان میں جماعت اسلامی نے اس سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جب کہ حکومتِ پاکستان کے مطابق اس سزا کو دفتر خارجہ کے ذریعے حکومتی سطح پر بنگلہ دیش کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور ماضی میں اس طرح کی سزاؤں پر ملک گیر پیمانے پر تشدد کے واقعات دیکھے گئے ہیں

شیخ حسینہ کی دوبارہ حکومت میں واپسی کے بعد یہ دوسرا اس قسم کا فیصلہ ہے تاہم اس سے قبل ستمبر میں بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسی قسم کے ایک فیصلے کی سماعت کرتے ہوئے سزا میں تخفیف کی تھی اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

یہ فیصلہ دلاور حسین کے اپیل کے نتیجے میں سامنے آیا تھا جنھیں ٹرائبیونل نے جنگی جرائم کا مرتکب پاتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

اس سے قبل ایک اسلام پسند رہنما کو جنگی جرائم کا مرتک پاتے ہوئے سزائے موت سنائی گئی تھی اور گذشتہ سال دسمبر میں ان کو پھانسی دی گئی تھی جو کہ اس معاملے میں پہلا واقعہ تھا۔

جنگی جرائم کا خصوصی ٹرائبیونل وزیراعظم حسینہ واجد نے سنہ 2010 میں قائم کیا تھا جس کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں