ایران میں’میچ دیکھنے‘ پر گرفتار خاتون کی بھوک ہڑتال

Image caption 25 سالہ غنچہ قوامی کو رواں سال جون میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں

ایران میں مردوں کا والی بال میچ دیکھنے کے الزام میں گرفتار ایرانی نژاد برطانوی خاتون غنچہ قوامی کے خاندان کے مطابق غنچہ نے دوبارہ بھوک ہڑتال کی ہے۔

غنچہ کی ماں سوسن مشتغیان نے بی بی سی کو بتایا کہ غنچہ ان کے بقول اپنی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

غنچہ کے وکیل کے مطابق ان کی موکلہ کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر نے ان کے سزا کی تصدیق ابھی تک نہیں کی۔

25 سالہ غنچہ قوامی کو رواں سال جون میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں۔

سوسن مشتعیان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کسی عدالتی حکم حکم کے بغیر اپنی گرفتاری اور عدالت کی طرف سے کیس کا فیصلہ نہ کرنے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ غنچہ نے اس سے پہلے گذشتہ اکتوبر میں قید تنہائی کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔

غنچہ قوامی کے وکیل محمود علی زادہ طبطبائی نے اتوار کو کہا تھا کہ غنچہ قومی کو نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم بی بی سی فارسی کی نامہ نگار قصریٰ نجی کا کہنا ہے کہ مرکزی انقلاب عدالت نے ان کا کیس سزی کی تصدیق یا کیس میں دیر لگانے کی وجہ بیان کیے بغیر پراسیکیوٹر دفتر واپس بھیجوا دیا ہے۔

بظاہر غنچہ کو 20 جون کو میچ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس وقت وہاں خواتین کے میچ دیکھنے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا لیکن غنچہ کے بھائی امان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ’ان کی بہن صرف سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے گئی تھیں۔‘

غنچہ کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن جب وہ دوبارہ اپنا سامان لینے گئیں تو انھیں پھر حراست میں لے لیا گیا۔امان کے مطابق ان کے والدین کو گرفتاری کے تقریباً 50 دن بعد اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں خواتین پر فٹبال میچ دیکھنے پر سال 1979 سے پابندی عائد ہے جبکہ سال 2012 میں اس پابندی میں والی بال میچوں کو بھی شامل کر دیا گیا۔

تنظیم کے مطابق 13 جون سے اس مسئلے پر دوبارہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران اور برازیل کے مابین میچ کے دوران برازیل کی خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تاہم ایرانی خواتین کو اجازت نہیں مل سکی۔

اسی بارے میں