کشمیر ہلاکتیں: الیکشن سے پہلے ’افسپا ہٹاؤ تحریک‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سری نگر میں کرفیو جیسی صورت حال ہے

بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے کشمیر میں تعینات فوج کو حاصل لامحدود اختیارات کے خاتمے کی خاطر احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں مقامی اسمبلی کے مرحلہ وار انتخابات 25 نومبر سےشروع ہو رہے ہیں۔ دریں اثنا بدھ کے روز ان ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں ہڑتال کی گئی۔

سماجی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر کا کہنا ہے: ’مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون سے فوجی اہلکار نے گولی چلائی۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تعینات لاکھوں فوجی اہلکاروں کے ذہنوں میں برسوں سے یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ وہ دشمن کے علاقے میں ہیں، اور ذرا سے شک پر انھیں گولی مارنی ہے۔‘

ڈاکٹر مظفر کہتے ہیں کہ فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا ’افسپا‘ کے تحت یہ اختیارات جنگی حالات میں دیے گئے تھے:

’اب تو خود حکومت ہند کہتی ہے کہ کشمیر میں حالات پرسکون ہیں۔ چار لاکھ ہندو یہاں امرناتھ کی یاترا کرتے ہیں اور لاکھوں دیگر سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ اور اب الیکشن کرائے جا رہے ہیں، فوج اور پولیس خود کہتی ہے کہ صرف ایک سو مسلح شدت پسند موجود ہیں، تو ایسے میں فوج کو حاصل ان اختیارات کا جواز کیا ہے؟‘

واضح رہے کہ سرینگر کے نواحی علاقے نوگام کے رہنے والے پانچ دوست بڈگام میں عاشورہ کی تقریب سے ایک کار میں واپس لوٹ رہے تھے کہ بڈگام ضلع کے چھیترگام میں واقع فوج کی ایک چوکی پر فوجی اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے 13 سالہ برہان فیصل اور 21 سالہ معراج الدین مارے گئے، جب کہ زاہد اور شاکر نامی دو دیگر نوجوان زخمی ہو گئے۔

پانچواں نوجوان باسم معجزاتی طور پر بچ نکلا۔

باسم کے بیان پر مشتمل حکومت کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب فوج نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو مخالف سمت سے ایک لوڈ کیرئیر آیا جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ماروتی سوزوکی کار اُلٹ کر بجلی کے کھمبے سے ٹکراگئِی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIYAZ MASROOR
Image caption ان نوجوانوں کے جنازے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی

ایک سرکاری افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر سرکاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حادثہ ہوتے ہی فوج نے مدد کرنے کی بجائے نوجوانوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

فوجی ترجمان این این جوشی نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے بھی اپنی سطح پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور قصورواروں کو نہیں بخشا جائے گا:

’فوجی ذرائع نے بتایا کہ راشٹریہ رائفلز کا جو یونٹ واردات کے وقت چھیترگام میں تعینات تھا، اسے وہاں سے ہٹایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افسپا قانون کی رو سے اگر فوجی اہلکاروں کو قصوروار پایا بھی گیا تو عام عدالت میں ان کی پیشی نہیں ہو سکتی، اس کے لیے بھارت کی وزارت دفاع سے اجازت مطلوب ہے، جو ماضی کے واقعات کی روشنی میں ناممکن ہے۔‘

اس حوالے سے یہاں کی ہند مخالف اور ہند نواز سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر افسپا کو ہٹانے کا دیرنہ مطالبہ دہرایا ہے۔

لیکن بعض حلقے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ قانون نہیں بلکہ فوج کی موجودگی ہے۔ صحافی اور مصنف فہد شاہ کہتے ہیں:

’ان ہلاکتوں پر سیاست کی جا رہی ہے۔ الیکشن میں کچھ ہفتے باقی ہیں، اور اب نوجوانوں کی موت پر لوگ سیاسی محلات تعمیر کر رہے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے، یہاں کی فوج مرنے مارنے کی تربیت رکھتی ہے۔ اگر واقعی امن ہے تو فوج کو سرحدوں پر بھیج دو، آبادی میں رکھنے کی کیاضرورت ہے؟‘

اس دوران انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی حکام سے کہا ہے کہ وہ مقامی حکومت کی تحقیقات میں تعاون کریں۔

ادارے نے گذشتہ برس گاندربل ضلعے میں ایک نوجوان کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات میں فوج نے مقامی تفتیشی کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں