’میرے بیٹے کی قیمت دس لاکھ روپے تھی؟‘

Image caption یوسف بٹ اپنے بیٹے کے قاتل فوجی کے خلاف قانونی کارروائی کے خواہشمند ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ انھیں زرِ تلافی نہیں انصاف چاہیے۔

وادی کشمیر میں فوج کی غلطی سے دو لڑکوں کی ہلاکت کا مسئلہ اب ہندوستانی فوج کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون (افسپا) کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو رہا ہے۔

متاثرین کے لواحقین چاہتے ہیں کہ فائرنگ میں ملوث فوجیوں کو گرفتار کر ان پر سول عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

ہلاک ہونے والے کشور فیصل کے والد یوسف بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میرا بیٹا 13 سال کا طالب علم تھا۔ اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں۔ کیا اس کی قیمت 10 لاکھ روپے تھی؟ ہمیں پیسہ نہیں، انصاف چاہیے‘

یوسف کا کہنا تھا، ’وہ کہہ رہے ہیں انہوں نے فوجیوں کو نوکری سے الگ کر دیا ہے، جبکہ انھیں ایک آرام دہ بیرک میں رکھا گیا ہے۔‘

فوج نے اپنی غلطی مانتے ہوئے مرنے والوں کے خاندانوں کو نقد امداد رقم دینے کی پیشکش کی ہے جبکہ بھارت کے وزیر دفاع ارون جیٹلی معاملے کی فوری اور جلد سماعت کا وعدہ کر چکے ہیں۔

دوسری طرف کشمیر میں فوجیوں کی گرفتاری کے مطالبے پر مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔

نوگام کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’نوجوان گاڑیوں اور پولیس کی گشتی پارٹی پر دن بھر پتھراؤ کرتے رہے لیکن حالات قابو میں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIYAZ MASROOR
Image caption فوج نے اپنی غلطی مانتے ہوئے مرنے والوں کے خاندانوں کو نقد امداد رقم دینے کی پیشکش کی ہے

خیال رہے کہ ہلاک ہونے والا ایک نوجوان نوگام سے ہی تعلق رکھتا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارتی فوج سے باضابطہ تحقیقات میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بھارتی فوج کو سول کورٹ میں مقدمات کا سامنا کرنے سے دی گئی چھوٹ ختم ہونی چاہیے۔

فوج کو خصوصی اختیارات دینے والا قانون ’آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ‘ بھارت نواز اور بھارت مخالف دونوں دھڑوں کے لیے ایک سیاسی مسئلہ رہا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن رضا مظفر کہتے ہیں، ’کشمیر میں جب دراندازی عروج پر تھی، تب فوج کو قانونی تحفظ دیا گیا تھا، تاکہ وہ جسے چاہیں، اسے صرف شک پر گرفتار کر سکیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب ہندوستان کی حکومت امن ہونے اور انتخابات کرانے کے دعوے کر رہی ہے۔ یہ قانون اب قتل کرنے کا لائسنس بن گیا ہے. یہ قانون ختم ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں