عمان: ایران کےایٹمی پروگرام پراہم مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ اُمور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن شریک ہیں

ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے درمیان حائل رکاوٹین دور کرنے کے لیےمذاکرات عمان میں شروع ہوئے ہیں۔

عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ اُمور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن شریک ہیں۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جبکہ ایران اور عالمی دنیا کے مابین طے پانے والے عبوری معاہدہ چوبیس نومبر کوختم ہو رہا ہے۔ ان مذاکرت میں یورینیم کی افزودگی اور پابندیوں میں نرمی پر اختلاف ختم کرنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ہے کہ مذاکرات میں ایران کے رہبر اعلٰی ایت االلہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی علی اکبر ولایتی کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن رکاوٹیں ابھی بھی موجود ہیں۔ جان کیری نے کہا کہ ایران سے صرف جوہری پروگرام پر بات چیت ہو رہی ہے۔

گزشتہ سال ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین جوہری پروگرام پر عبوری معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ایران کے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد ایران اُن کے ساتھ مکمل تعاون کا وعدہ کیا تھا۔

آئی اے ای کا کہنا ہے کہ ایران اس بات پر متفق تھا کہ وہ درجن بھر مشتبہ تنصیبات میں سے دو کے بارے میں مکمل معلومات رواں سال اگست تک فراہم کرے گا لیکن ایران نے ابھی تک معلومات نہیں دیں ہیں۔

ایران کے عالمی طاقت کے مابین ہونے والے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ایران کس حد تک یورینیم افزودہ کر سکتا ہے اور کب تک بین الااقوامی پابندیاں ختم ہوں۔ ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

مسقط میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فریقین کو تنازعات ختم کا کرنے کے لیے اس تاریخی موقع کا اندازہ ہے اور اُن میں عبوری معاہدے کاختم ہونے کے بعد ممکنہ نتائج کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں