پاکستان سے مذاکرات منقطع کرنا ’بچگانہ پن‘ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رام جیٹملانی سابق عسکریت پسند کمانڈر جاوید احمد میر سمیت کئی کشمیری رہنماؤں سے رابطے میں ہیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما اور معروف بھارتی سیاستدان رام جیٹھملانی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے امن مذاکرات کا سلسلہ اس بات پر منقطع کرنا کہ علیحدگی پسند کشیمری رہنما پاکستان کے سفیر سے ملے ہیں، بھارت کی جانب سے بچگانہ پن کا مظاہرہ ہے۔

رام جیٹملانی کا بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیبرین میں انٹرویو

بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف بھارتی قانون دان اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے پیش کردہ تجاویز ’بہت خوبصورت اور مناسب تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ تجاویز بھارت کو قبول کر لینی چاہئیں تھیں۔ ’ بھارت کا ان تجاویز کو رد کرنا بلاجواز تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مشرف تجاویز اتنی ہی اچھی تھیں تو انھیں بھارت نے قبول کیوں نہ کیا تو سینیئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ ’مُورکھ تو ہر جگہ ببٹھے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا یہ تجاویز اب بھی قابل عمل ہیں، رام جیٹھملانی کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے سیاستدان اکھٹے ہو جائیں اور ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرں تو عمل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہ کہ وہ بھارت کی حکومت کو ان تجاویز پر غور کرنے کے لیے رضامند کر سکتے ہیں کیونکہ ’بھارت میں ایک نئی حکومت بنی ہے اور اسے اس بات پر تیار کرنے کے لیے زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل مشرف کے فارمولے میں کشمیری عوام کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کی تجویز تھی: رام جیٹھملانی

پاکستان کی موجودہ حکومت کے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی نیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان (پاکستانی حکومت) کے پیچھے ایک ’بڑی طاقت‘ بیٹھی ہوئی ہے۔

جنرل مشرف کے کشمیر فارمولے کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا مشرف نے یہ تجاویز ایک مشترکہ دوست کے ذریعے بھیجی تھیں، اور ’یہ تجاویز اتنی خوبصورت تھیں‘ کہ انھوں نے فوراً اتفاق کر لیا۔ رام جیٹھملانی نے کہا کہ انھوں نے جنرل مشرف کی تجاویز میں معمولی تبدیلیاں کی تھیں جن پر پرویز مشرف نے بھی اتفاق کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے فارمولے میں دونوں جانب کے کشمیری عوام کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے اور صرف دفاع، کرنسی اور امور خارجہ کے معاملات دونوں ممالک کی مرکزی حکومتوں کو دینے کی تجاویز شامل تھیں۔

رام جیٹھملانی کے بقول اس کے علاوہ یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ دونوں جانب کمیٹیاں بنائی جائیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کشمیر کے عوام کا ’استعماری استحصال‘ نہ ہو۔

رام جیٹھملانی نے بتایا کہ انھوں جنرل پریز مشرف سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ان کی تجاویز کو بھارت میں کشمیر کمیٹی کے فورم سے شائع کر سکتے ہیں تو جرل مشرف نے اس سے اتفاق کیا تھا اور ’میں نے یہ تجاویز ان کی اجازت سے اپنی کتاب میں بھی شائع کیں۔‘ رام جیٹھملانی نے بتایا کہ یہ تجاویز ان کی آخری کتاب ’کانشس آف اے میورک‘ یا ’منحرف کا ضمیر‘ میں شائع کی گئی ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے کشمیر کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کو سوچنا چاہئیں کہ اگر خطے میں دہشتگردی ختم نہ ہوئی تو چین دونوں کو کھا جائے گا۔‘

رام جیٹھملانی پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھیں مئی سنہ 2013 میں جماعت کے خلاف بیان دینے پر چھ سال کے لیے بی جے پی سے نکال دیا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ماضی کے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سمیت دیگر کشمیری قیادت سے بھی رابطوں میں ہیں۔

اسی بارے میں