نسبندی آپریشن سے ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد 13 ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ alok putul
Image caption نسبندی کے آپریشن سے گذرنے والی 60 خواتین ریاست کے چار ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے کم از کم 20 کا حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک نس بندی کیمپ میں آپریشنز کی وجہ سے مرنے والی خواتین کی تعداد اب 13 ہو گئی ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے ان ہلاکتوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ریاست میں حزب اختلاف کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر آج بدھ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس میں چیمبرس آف کامرس کے ساتھ ساتھ دوسرے اداروں نے بھی شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مقامی صحافی آلوک پتل نے بتایا ہے کہ ہڑتال کا اثر بلاسپور شہر میں نظر آ رہا ہے، سکولوں میں غیر اعلانیہ چھٹیاں نظر آ رہی ہیں۔ جزوی طور پر نقل و حمل کی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

اس طبی کیمپ میں آنے والی 60 خواتین اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 20 کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ڈاکٹروں نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے سے انکار نہیں کیا ہے۔چھتیس گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر لاكھن سنگھ نے کہا ’ہم دن رات خواتین کو بہتر سے بہتر علاج فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تمام میڈیکل سٹاف اس میں مستقل طور پر لگے ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ alok putul
Image caption مقامی لوگوں کے مطابق یہ حادثہ نس بندی کے آپریشن کے بعد ہوا

ریاستی حکومت نے اس کیمپ میں کام کرنے والے چار ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے جبکہ ریاستی سیکریٹری صحت ڈاکٹر كمل پريت سنگھ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

وزیر اعلی نے متاثرہ خاندانوں کو چار چار لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے پھر سے کہا ہے کہ وہ اخلاقی طور پر اس واقعہ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا: ’ہم کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اس مشکل گھڑی میں کانگریس متاثرین کے دکھ دور کرنے میں تعاون کرنے کے بجائے لاشوں پر سیاست کر رہی ہے۔ چھتیس گڑھ میں آج ہڑتال کا اعلان اسی کا نمونہ ہے اور عوام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔‘

جبکہ کانگریس لیڈر اور ریاست میں حزب اختلاف کے رہنما ٹی ایس سنگھ دیو نے کہا ہے کہ ’وزیر صحت اگر ذمہ داری لے رہے ہیں تو انھیں استعفی بھی دینا ہی ہوگا۔‘

واضح رہے کہ بلاسپور کے پینڈاري گاؤں میں مرکزی خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تحت سنیچر کو نس بندی کے لیے کیمپ لگایا گيا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alok Putul
Image caption متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

گاؤں والوں کا الزام ہے کہ سرکاری ہدف پورا کرنے کی جلد بازی میں صرف چھ گھنٹے کے دوران ہی ضلع ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر 83 خواتین کی نس بندی کر دی۔

معطل ہونے والے ڈاکٹروں میں آپریشن کرنے والے ڈاکٹر آر کے گپتا سمیت نس بندی پروگرام کے ریاستی رابطہ کار کیسی اراؤں، ضلع کے اہم طبی افسر آر بھاگے اور ڈویژنل طبی اہلکار پرمود تیواری شامل ہیں۔

مرنے والی ایک خاتون جانكي بائی کے شوہر کا کہنا تھا کہ نس بندی سے پہلے دوا کھاتے ہی کئی خواتین کو قے ہونے لگی تھی لیکن ڈاکٹر نے ان کی طرف توجہ نہیں دی اور عورتوں کی حالت بگڑتی چلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ alok putul
Image caption بہت سی بیمار خواتین کا علاج چھتیس گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں ہو رہا ہے

بلاسپور کے طبی اہلکار ڈاکٹر آر کے بھانگے کا کہنا ہے کہ خواتین کی موت کیسے ہوئی، یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو پائے گا۔

ڈاکٹر بھانگے کے مطابق: ’35 خواتین کو ضلع ہسپتال، چھتیس گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کی حالت تشویشناک حد تک نازک ہے۔‘

مقامی صحافی آلوک کمار پتل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس واقعے پر برانگیختہ و مشتعل مقامی شہریوں اور حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے لوگوں نے پیر کی رات ریاست کے وزیرِ صحت امر اگروال کی رہائش گاہ کا بلاسپور میں محاصرہ کرلیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ alok putul
Image caption ریاست کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے اس معاملے میں جانچ کا حکم دے دیا ہے

دوسری جانب ریاست کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے معاملے کی جانچ کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اس پورے معاملے کی تفتیش کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ اس میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف ہم سخت کارروائی کریں گے۔ فی الحال ہماری پوری توجہ بیمار خواتین کو علاج فراہم کرنے کی جانب ہے۔‘

اسی بارے میں