کشمیر: ’فرضی جھڑپ میں ملوث سات فوجیوں کو عمر قید‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی وجہ سے قصوروار فوجی یا نیم فوجی اہلکاروں کا مواخذہ عام عدالت میں نہیں ہو سکتا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکری ذرائع کے مطابق ایک فوجی عدالت نے ایک فرضی جھڑپ کے دوران تین کشمیری نوجوانوں کے قتل کے الزام میں دو افسران سمیت سات فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ چار سال قبل لائن آف کنٹرول کے قریب مژہل نامی گاؤں میں پیش آیا تھا۔

عسکری ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر دیپک مہرا کی سربراہی میں عدالت نے ملزمان کا کورٹ مارشل اس سال جنوری میں شروع کیا اور ستمبر میں تفتیش مکمل ہوگئی تھی۔

تاہم کشمیر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان این این جوشی نے اس فیصلے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے: ’اس معاملے کی تفتیش ہو رہی تھی، لیکن ہم نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔‘

فرضی مقابلے میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تین نومبر کی شب فوج کے ہاتھوں مارے گئے دو نوجوانوں کی ہلاکت کا معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق کمانڈنگ افسر کرنل ڈی کے پٹھانیہ، کپتان اوپیندر سنگھ، صوبیدار ستبیر سنگھ، حوالدار بیر سنگھ، سپاہی چھادرا بن، سپاہی ناگیندرا سنگھ اور سپاہی نریندر سنگھ کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

اس پورے معاملہ میں دو کشمیریوں بشیر احمد اور عبدالحمید کو بھی ملزم بنایا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اچھی مزدوری کا لالچ دے کر مقتولین کو فوجی کیمپ میں پہنچایا جہاں سے انھیں کپواڑہ کے مژہل سیکٹر لے جا کر فرضی جھڑپ میں ہلاک کیا گیا۔

جموں کشمیر پولیس نے 15 جولائی 2010 کو ہی آٹھ فوجی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا اور اس کیس کی سماعت سوپور کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی۔

تاہم کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا کی وجہ سے قصوروار فوجی یا نیم فوجی اہلکاروں کا مواخذہ عام عدالت میں نہیں ہو سکتا، اس لیے ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔

خیال رہے کہ 30 اپریل 2010 کو بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کشمیر کے مژہل سیکٹر میں تین پاکستانی مسلح شدت پسندوں کو جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ لیکن بعد میں مارے جانے والے نوجوانوں کی شناخت بارہ مولہ کے محمد شفیع، شہزاد احمد اور ریاض احمد کی حیثیت سے ہوئی تھی جو مقامی مزدور تھے۔

ان ہلاکتوں پر وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور چھ ماہ تک ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

اس پوری تحریک میں مظاہروں کے دوران پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے 120 نوجوان مارےگئے تھے۔

اسی بارے میں