صدر کی حفاظت کے لیے لنگوروں کی خدمات

تصویر کے کاپی رائٹ ATUL CHANDRA
Image caption صدر کی آمد سے پہلے ان کے پورے روٹ کو پولیس، این ایس جی کمانڈوز، ایس پی جی اور فوج کے حوالے کر دیا جائے گا

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوؤں کا ایک مقدس شہر متھرا ہے جہاں کے بندروں میں ایک عجیب شوق پایا جاتا ہے۔

شہر کے بندر متھرا کی زیارت یا پوجا پاٹ کرنے کے لیے آنے والے افراد کے دھوپ سے بچنے والے چشموں کو چھین لیتے ہیں چاہے وہ عینک آنکھوں پر لگی ہو یا پھر جیب میں ہو۔

ان بندروں کے اس رویے اور ان کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے متھرا کی انتظامیہ نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی کی حفاظت کے لیے 10 لنگوروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تیار کی ہے۔

صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جا رہے ہیں۔

سنگِ بنیاد کی تقریب کے بعد وہ بانكے بہاری مندر بھی جائیں گے جہاں بندروں کی دہشت سب سے زیادہ ہے۔

متھرا کی سینیئر پولیس افسر منزل سینی نے بتایا ہے کہ صدر پرنب مکھرجی کا قافلہ جس راستے سے بھی گزرے گا اس پر یہ لنگور پورا دن تعینات رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جائیں گے

منزل سینی کے مطابق بھگوان کرشن کی جنم بھومی ٹرسٹ سے فی لنگور ایک ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر لیے گئے ہیں۔

یہ رقم قومی دیہی روز گار منصوبے کے مطابق 125 روپے یومیہ ملنے والی مزدوری سے کئی گنا زیادہ ہے۔

کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کے سیکریٹری کپل شرما نے بتایا ’ان کے پاس صرف دو لنگور ہیں جو صدر کی سیکورٹی انتظامات کے لیے تعینات ہیں۔ ٹرسٹ ان لنگوروں کے لیے 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔ باقی آٹھ لنگور کہیں دوسری جگہ سے لائے گئے ہیں۔‘

ورنداون چندرودئے مندر کے رابطہ عامہ اور وی آئی پی مہمانوں کی خدمات کے محکمے کے انچارج نوین کہتے ہیں کہ اس مندر میں بندروں کا اتنا خوف نہیں ہے۔ ہیلی پیڈ سے مندر بس چند قدم کے فاصلے پر ہے۔

صدر کی آمد سے پہلے ان کے پورے روٹ کو پولیس، این ایس جی کمانڈوز، ایس پی جی اور فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔