خواتین کی اموات: دوا ساز کمپنیوں کےمالکان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں پولیس نے نس بندی کے آپریشن کے بعد 15 خواتین کی ہلاکت کےمعاملے میں دو دواساز فیکٹریوں کے مالکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے فیکٹری مالکان کو شہادتیں مٹانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ فیکٹری مالکان نےناقص ادویات کی تیاری کے الزامات کی تردید کی ہے۔

پولیس نے اس ڈاکٹر کو حراست میں لے رکھا ہے جس نے ایک روز میں نس بندی کے 83 آپریشن کیے تھے۔ ڈاکٹر کا موقف ہے کہ خواتین کی اموات ناقص ادویات کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

حکومت نے نس بندی کے آپریشن کے لیے خصوصی میڈیکل کیمپ لگایا تھا جہاں 83 سے زیادہ خواتین کا نس بندی آپریشن کیا گیا تھا۔

حکومت نےنس بندی کے آپریشن کے دوران ہلاک ہو نے والی خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس ابھی تک عام نہیں کی ہیں۔

جمعرات کے روز پولیس نے ان فیکٹریوں پر چھاپہ مارا جہاں وہ ادویات تیار کی جاتی تھیں جو نس بندی کے آپریشن کے دوران استمعال کی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق جب پولیس ان فیکٹریوں پر پہنچی تو انھیں وہاں راکھ کے ڈھیر ملے ہیں جس میں دوائیوں کےکچھ ایسے پیکٹ بھی تھے جو جلنے سے بچ گئے تھے۔ پولیس نے فیکٹری مالکان کو مشکوک ادویات کو جلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نس بندی کا آپریش کروانے والی خواتین میں بخار، قے اور فشار خون میں مبتلا ہو رہی ہیں۔

ایک فیکٹری کے مالک رمیش ماہ ور نےروائٹرز کو بتایا کہ پولیس انھیں حراساں کر رہی ہے اور ان کی دوائیوں کا خواتین کی اموات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ گرفتاریاں نس بندی کے لیے لگائے گئے میڈیکل کیمپ میں پندرہ خواتین کی اموات کے بعد ہوئی ہیں۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹروں کی حراست پر ناراض ہے۔ ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ یہ پورا معاملہ ناقص ادویات کی فراہمی کا ہے لیکن حکومت ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا، ’ابتدائی طور پر اس پورے حادثے کے لیے خراب ادویات کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جراحی کے دوران انفیکشن سے اتنی جلدی موت نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ریاست میں ان چھ ادویات اور مواد پر پابندی لگا دی ہے، جن کا استعمال ان کیمپوں میں کیا گیا۔‘

اسی بارے میں