کشمیر: لاشیں مانگنے والے مظاہرین پر فائرنگ، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کے خاتمہ کی خاطر عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کولگام میں فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشیں مانگنے کے لیے مظاہرہ کرنے والے افراد پر نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔

جمعے کی صبح کولگام میں فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ طویل مسلح تصادم کے بعد دو شدت پسندوں عباس ملاح اور منظور ملک کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

جب ان دونوں افراد کی لاشوں کا مطالبہ کرنے کے لیے مقامی افراد نے جلوس نکالا تو نیم فوجی اہلکاروں نے جلوس پر فائرنگ کر دی جس سے کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں سے طارق احمد نامی طالب علم کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد کولگام اور ملحقہ علاقوں میں مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت رونما ہوا ہے جب فوج نے چار نومبر کو دو نوجوانوں کی ہلاکت کو چیک پوائنٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں کی غلطی قرار دے کر اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

ضلع بڈگام کے قریب ہونے والی ان ہلاکتوں سے پوری وادی میں بےچینی پھیل گئی تھی، اور علیحدگی پسندوں کی کال پر کشمیر میں ہڑتال کی گئی۔

دو ہفتوں میں عام لوگوں پر فائرنگ کے ایک اور واقعے نے رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات سے متعلق ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

انتخابات سے قبل فوج کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں فوج مخالف بحث شروع کر دی ہے۔

اکثر حلقے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ آبادیوں میں فوج کی تعیناتی ہے اور بعض سماجی رضاکاروں اور دوسرے حلقوں نے کشمیر میں تعینات فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا کے تحت حاصل اختیارات کے خاتمے کی خاطر عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں