کولکتہ: رکن اسمبلی کی جیل میں خودکشی کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کنال گھوش مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت ترنمول کانگریس کے اعلیٰ عہدیداروں پر شاردا گروپ سے فائدہ لینے کے الزامات لگاتے رہے ہیں

مغربی بنگال کے بدنام شاردا چٹ فنڈ فراڈ کے اہم ملزمان میں شامل رکن اسمبلی کنال گھوش نے کولکتہ کی جیل میں خودکشی کی کوشش کی ہے۔

کنال گھوش شاردا میڈیا گروپ کے سربراہ تھے اور انھیں پولیس نے گذشتہ سال گرفتار کیا تھا۔

کنال ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے رکن ہیں لیکن گرفتاری کے بعد سے وہ پارٹی سے معطل ہیں۔

انھیں وزیرِ اعلیٰ ممتا بنر جی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا رہا ہے۔

بی بی سی ہندی کے امیتابھ بھٹاسالی کے مطابق کنال گھوش نے تین دن پہلے دھمکی دی تھی کہ اگر 72 گھنٹوں کے اندر اندر ’چٹ فنڈ‘ گھپلے میں شامل دیگر ’ہائی پروفائل‘ افراد کو حراست میں نہیں لیا گیا تو وہ خودکشی کر لیں گے۔

انھوں نے یہ دھمکی معاملے کی عدالتی سماعت کے دوران دی تھی۔

کنال نے اس معاملے کی سی بی آئی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں بھی جانبداری کا الزام لگایا تھا۔

دھمکی کے بعد 72 گھنٹے پورے ہونے کے بعد کنال نے نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔

کولکتہ جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی کوٹھڑی سے نیند کی 58 گولیاں برآمد کی گئی ہیں تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کنال نے کتنی گولیاں كھائي ہیں۔

جیل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ادیر شرما نے کہا: ’کنال گھوش کو صبح ہی ہسپتال لے جایا گیا ہے اور وہ فی الحال ہوش میں ہیں۔‘

ہسپتال سے ملنے والی معلومات کے مطابق شروع میں کنال کی نبض بہت تیز چل رہی تھی، البتہ پیٹ صاف کیے جانے کے بعد ان کی حالت میں بہتری آئی ہے۔

فی الحال انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے اور ہسپتال کا میڈیکل بورڈ مسلسل ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایک طرف ہسپتال میں کنال گھوش کا علاج جاری ہے تو دوسری طرف جیل کے اندر کی سکیورٹی پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ جیل حکام کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس طرح کے ہائی پروفائل قیدی کی حفاظت کو یقینی بنائے جبکہ وہ خودکشی کی باقاعدہ دھمکی بھی دے چکا ہو۔‘

خیال رہے کہ کنال گھوش کی خودکشمی کی دھمکی کے بعد جج نے بھی جیل کے حکام کو ان کی سکیورٹی میں بہتری لانے کی ہدایت دی تھی۔

کچھ مہینے پہلے جب سی بی آئی نے یہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تب مرکزی ایجنسی نے چٹ فنڈ کمپنی شاردا گروپ کے مالک سدي پتو سین اور دوسرے عہدیداروں سمیت کنال گھوش کو اپنے تحویل میں لے لیا تھا۔

پوچھ گچھ سے پہلے اور بعد میں گھوش نے میڈیا کے سامنے مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت ترنمول کانگریس کے اعلیٰ عہدیداروں پر شاردا گروپ سے فائدہ لینے کے الزامات لگائے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔