’دنیا کی بیسٹ کُک ماں ہی کیوں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ nikhil ranjan
Image caption ’گھریلو کام کیا عورتوں کی قسمت سمجھی جاتی ہے‘

یوں تو خواتین نے دنیا کے ہر شعبے میں ترقی کی ہے اور وہ خلا تک بھی پہنچ گئی ہیں لیکن زمین پر ان کے حالات آج بھی ویسے کے ویسے ہیں۔

زیادہ تر لوگوں کے لیے دنیا کی بیسٹ کُک آج بھی ان کی ماں ہوتی ہے پاپا نہیں۔ گھر اور گرہستی کے بےتحاشا کام ان کی قسمت سمجھے جاتے ہیں۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ہیبی ٹیٹ سینٹر میں خواتین کے مسائل پر بات ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کی آدھی آبادی کو پورے حقوق دینے کے لیے مردوں کو دو قدم آگے آنا ہو گا۔

خواتین کے حالات بدلنے کے لیے ہمیشہ ہی انھیں سہولیات اور حقوق دینے کی بات کی گئی لیکن اس مرتبہ عورتوں کی وہ ذمہ داریاں مردوں کو دینے کی بات کی گئی جو عورتوں کی قسمت سمجھی جاتی ہیں اور وہ ہے گھر کا کام۔

گھریلو کام

اس مباحثے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا ریپ، جنسی زیادتی اور عورتوں کے خلاف تشدد کا گھریلو کام کاج سے کوئی تعلق ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جن گھروں میں مرد گھر کے کام کاج میں گھر کی عورتوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں وہاں عورتوں کو زیادہ عزت ملتی ہے۔

بھارت کے شہر بارہ بنکی میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم گھریلو کاموں میں مردوں کی جانب سے مدد کی اہمیت پر ایک مہم چلا رہی ہے۔

اس تنظیم سے وابستہ سُنیاتا نیوگی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ مرد اور عورت کے یکساں حقوق کی اس مہم میں مردوں کو ساتھ لیے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہم میں کھیل کھیل میں مردوں کو گھریلو کاموں میں مدد کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی

خاندانی منصوبہ بندی خاص طور پر خواتین کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے جس سےعورتوں کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔

سماجی بہبود سے متعلق بین الاقوامی ادارے ’پرومنڈو‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو لیوک کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں بچہ پیدا کرنے سے متعلق پوری ذمہ داری خواتین پر ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مردوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔

اینڈریو لیوک کا کہنا ہے کہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روایتی سوچ والے مرد کونڈم کا استعمال کم کرتے ہیں۔

حاملہ خواتین کی دیکھ بھال

بھارت اور پاکستان کے کئی علاقوں میں پہلے بچے کی پیدائش کے موقع پر حاملہ عورت کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ماں کے گھر میں حاملہ عورت کی اچھی دیکھ بھال ہوگی۔

برازیل میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے حاملہ عورتوں کی دیکھ بھال کے لیے مہم چلائی۔

حمل کے دوران اور بچے کی وِلادت کے بعد شوہر کی جانب سے ماں اور بچے کی دیکھ بھال کے اچھے نتائج سامنے آئے اور اب بچے کی پیدائش پر باپ کو ملنے والی چھٹیوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بچپن سے تربیت

روایتی طور پر زندگی میں مردوں اور عورتوں کے کردار کو ایک خاص طریقے سے دکھانے پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ جیتنے، حکومت تبدیل کرنے اور سوشل سروس کرنے والے ہیرو بن گئے۔ ناچنے گانے اور طرح طرح کے کھیل کھیلنے والے بھی ہیرو ہیں لیکن گھر میں کام کرنے والے مرد ہیرو کیوں نہیں کہلائے جا سکتے؟

معاشرے کو اس وقت ایسی ہی تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔

اسی بارے میں