میلے میں آئیں گے، نس بندی کرائیں گے!

Image caption حالیہ دنوں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں نس بندی کے آپریشن کے بعد 15 عورتوں کی موت اور متعدد کی نازک حالت ہوجانے کی خبر سے سنسنی پھیل گئی تھی

انڈیا میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام تقریباً 40 سال پرانا ہے، کچھ حد تک کامیاب بھی ہے اور متنازع بھی۔

سنہ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران لوگوں کو زبردستی بسوں سے اتار کر ان کی نس بندی کی گئی، کچھ غیر شادی شدہ نوجوان بھی اس مہم کا شکار بنے، یہ اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کا دور تھا۔ اس وقت شہری، انسانی اور باقی تمام طرح کے حقوق بالائے طاق رکھ دیے گئے تھے۔

کسی طرح یہ دور گزر گیا۔ کچھ سال پہلے کہا گیا کہ جن لوگوں کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے، انھیں بلدیاتی انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ راجستھان سمیت کچھ ریاستوں نے اس تجویز کوقانونی شکل بھی دی لیکن اعلیٰ قانون ساز اداروں میں اس غیرمعمولی تجویز کا اطلاق نہیں ہو سکا۔

بہرحال، شکر ہے کہ یہ دور بھی گزر گیا۔ ذرا سوچیے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم کو صرف اس وجہ سے اپنی کرسی چھوڑنا پڑ سکتی تھی کہ اپنے بلیک کیٹ کمانڈوز کی موجودگی میں وہ فارمیسی سے کونڈم نہیں خرید پائے۔

اس ملک میں لوگ آج بھی بہت خاموشی سے اور جھجھکتے ہوئے کونڈم خریدتے اور بیچتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران لوگوں کو زبردستی بسوں سے اتار کر ان کی نس بندی کی گئی، کچھ غیر شادی شدہ نوجوان بھی اس مہم کا شکار بنے، یہ اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کا دور تھا

چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں شاید اب بھی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں، چھتیس گڑھ میں بانجھ کاری کے آپریشن کے بعد 15 عورتوں کی موت سے تو ایسا ہی لگتا ہے، لیکن دہلی میں حالات ذرا مختلف ہیں۔

یہاں محکمہ صحت انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر میں بھی نس بندی کا کیمپ لگاتا ہے۔ یہ ملک کا سب سے بڑا سالانہ تجارتی میلہ ہے اور آپ کو شاید سن کر حیرت ہوگی کہ یہ کیمپ 1995 سے لگایا جا رہا ہے۔ سنہ 2007 میں یہاں تقریباً دو ہفتوں میں 488 مردوں نے نس بندی کرائی تھی لیکن تب سے یہ تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شاید ٹریڈ فیئر کا معیار بہتر ہوگیا ہے، لوگ آسانی سے بور نہیں ہوتے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات ذرا مشکل سے ہی سمجھ میں آتی ہے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آپ ٹریڈ فیئر گھومنے گئے ہوں، اچانک آپ کی نظر فیملی پلاننگ کے کیمپ پر پڑے اور بے ساختہ آپ کے منھ سے نکلے کہ ارے، میلے میں تو نس بندی کے آپریشن بھی ہو رہے ہیں، چلو آگئے ہیں تو کراتے ہی چلیں۔

میچ فکسنگ میں کیا برائی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں سپاٹ فکسنگ کا معاملہ ایک بار پھر سے سامنے آيا ہے

انڈیا میں آج کل کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کی خبریں سرخیوں میں ہیں۔ یہ بات بھی اپنی سمجھ سے تو باہر ہے کہ لوگ کرکٹ یا دوسرے کھیلوں میں میچ فکسنگ پر اتنا ناراض کیوں ہوتے ہیں؟

میچ فکسنگ بھی ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے جس سے کھیل اور زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے۔ میچ میں نئے غیر معمولی اتار چڑھاؤ آتے ہیں، سب کو یا کم سے کم اس منصوبے میں شامل کھلاڑیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کیا کرنا یا نہیں کرنا ہے اور پھر وہ اس کام کو زیادہ بہتر انداز میں کرنے یا نہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مینیجمنٹ کا بنیادی اصول ہے، سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے۔

اور بس ذرا انتظار کیجیے، اس فہرست میں کچھ بڑے کھلاڑیوں کے نام بھی آسکتے ہیں۔ ناموں کی فہرست سپریم کورٹ کے پاس ہے اور اس نے گذشتہ ہفتے غیر دانستہ طور پر تین غیر معروف کھلاڑیوں کا ذکر تو کھلی عدالت میں کر دیا تھا، بظاہر عدالت کو کنفیوژن تھا کہ یہ تینوں کھلاڑی ہیں یا منتظمین۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے؟

کشمیر سے افسپا ہٹانے کا وقت آگیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کمشیر میں مسلح افواج کو خصوصی اور غیر معمولی اختیارات کے قانون میں ترمیم کی بات کہی ہے

جب سے کانگریس پارٹی حکومت سے باہر ہوئی ہے، اس کے لیڈر ایک سے بڑھ کر ایک انقلابی منصوبے پیش کر رہے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اب کہا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت کمشیر میں مسلح افواج کو خصوصی اور غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔

حکومت کیا کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن کانگریس کی دس سال کی حکومت کے بعد مسٹر چدمبرم کی اس تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کی صفوں میں بیٹھ کر پارٹی کے رہنماؤں کا دماغ زیادہ تیز چلتا ہے۔

اسی بارے میں