’مرجاتے تو اچھا تھا، ووٹ تو نہیں دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں اب تک لوگ سیلاب کی تباہی سے نکل نہیں سکیں ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام ریاست جموں و کشمیر میں ان دنوں انتخابات کا ماحول ہے جہاں 25 نومبر اور بیس دسمبر کے درمیان پانچ مرحلوں میں پولنگ ہونے والی ہے۔

لیکن وادی کشمیر میں بہت سے لوگ اب بھی سیلاب کی تباہی سےنکل نہیں پائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تباہ کن سیلاب جیسی مصیبت کے وقت انتظامیہ کی غیر موجودگی نے انھیں بہت مایوس کیا ہے۔

بی بی سی ہندی کی شالو یادو نے بارہ مولہ میں سیلاب سےمتاثرہ خواتین کی آپ بیتی سنی اور پوچھا کہ آخر حکومت سےان کا اعتماد کیوں اٹھ گیا ہے؟

ضلع بارہ مولہ کے ایک دور دراز گاؤں میں نسيمہ اپنے خاندان کے ساتھ ٹارپولين شیٹ سے بنے ٹینٹ میں بیٹھی ہیں۔ ان کا مکان بغل میں ہی ہے لیکن وہ اس قدر تباہ شدہ حالت میں ہے کہ اندر پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔

گھر کی چھت گر چکی ہے اور پنکھا زمین پر دھول کھا رہا ہے۔ کھڑکی، دروازے مٹی میں مل چکے ہیں اور ان میں سے نوکیلی کیلیں سیلاب کا قہر بیان کرتی ہیں۔

اپنے گھر میں پڑے ملبے کو ہٹاتے ہوئے نسيمہ کے پاؤں میں کیل گڑ جاتی ہے اور خون بہنے لگتا ہے، لیکن وہ آہ تک نہیں کرتیں۔

معمولی درد

خون کو اپنے مٹی میلے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’جو ستمبر کے سیلاب کے دوران ہم نے برداشت کیا اس کےمقابلے میں تو یہ معمولی سا درد ہے۔‘

نسيمہ کے خاندان نے سیلاب کے دوران اپنے مکان سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی پر کھلے آسمان کے نیچےدس دن گزارے۔

اس خوفناک تجربہ کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’پہاڑی سےاپنے آشیانے کو جب ڈوبتے ہوئے دیکھتے تھے تو دل بہت دلبرداشتہ ہوتا تھا۔ ان دس دنوں میں دو لمحے کے لیے بھی ہماری آنکھ نہیں لگی۔‘

وہ بتاتی ہیں ’خاندان کے بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے ہم خواتین انہیں 24 گھنٹے سینے سے لگائے رکھتی تھیں لیکن پھر بھی میری بہن کے ایک برس کے بچے نے دم توڑ دیا۔ خدا کا رحم کہیے کہ اسے دفنانے کے لیے جنگل میں تھوڑی سی خشک زمین نصیب ہوگئی۔‘

’اچھا ہوتا، مر جاتے‘

نسيمہ نے بتایا ’ان دنوں ہمارے پاس ویسے ہی سردی سے بچنےکے لیے کپڑے نہیں تھے اور اس مصیبت میں حیض کے دوران خواتین کو اپنے تن سے کپڑے کم کر کے انہیں پیڈ کی طرح استعمال کرنا پڑا۔‘

مایوس نسيمہ کہتی ہیں ’اچھا ہوتا اگر ہم تمام اس سیلاب میں ہی مر جاتے۔ ایسی زندگی سے تو موت ہی بہتر ہے۔ آخر کار بعض غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں نے ہم خواتین کو ہائيجن کٹ مہیا کرائے۔

’اپنی نم آنکھوں کو پونچھتے ہوئے وہ غصے میں کہتی ہیں ’کیاحکومت کو ہماری پریشانی دکھائی نہیں دیتی؟ اتنی مایوسی کےبعد اب حکومت پر ہمیں اعتماد نہیں رہا۔ ہم ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے، نہ میں اور نہ ہی میرا خاندان۔‘

’کوئی ٹھکانہ نہیں‘

نسيمہ جس طرح قدرتی آفت سے پریشان ہوئیں اسی طرح حکومت کے رویہ سے سخت ناراض ہیں۔ انتخابات سے زیادہ ان کو اپنے گزر بسر کی فکر ہے۔

تھوڑے ہی دنوں میں کشمیر میں برفباری ہونے والی ہے اور سرچھپانے کے لیے ایک ٹینٹ کے علاوہ نسيمہ اور ان کے خاندان کے پاس کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ہے۔

رات کو پورا خاندان کمبل کے چیتھڑوں میں ایک دوسرے سے چپک کر سوتا ہے۔ لیکن برفباری کے موسم میں کمبل کے یہ چیتھڑے بہت کم پڑ جائیں گے۔