غیرت کے نام پر قتل سے دہلی میں سراسیمگی

تصویر کے کاپی رائٹ Abhishek Seth
Image caption بھاونا یادو کی موت شادی کے تیسرے دن ہوئی جسے غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے قتل میں شمار کیا جا رہا ہے

دہلی پولیس نے طالبہ بھاونا یادو کے والدین کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور پولیس کا دعوی ہے کہ یہ غیرت کے نام پر کیا گیا قتل ہے۔

پولیس کے مطابق بھاونا کا قتل اس لیے کیا گیا کیونکہ انھوں نے دوسری ذات کے نوجوان سے شادی کی تھی۔

بھاونا کے بعض پڑوسی اس معاملے میں خاموش ہیں جبکہ بعض ان کے والدین کو بے گناہ خیال کرتے ہیں۔ دوسری جانب کالج کے ساتھیوں میں ایک قسم کا خوف ہے کیونکہ یہ واقعہ دارالحکومت دہلی کے معروف علاقے میں ہوا ہے۔

دہلی کے دوارکا میں بھارت وہار کالونی ہے جہاں بھاونا یادو کا گھر ہے۔

بھاونا کو مبینہ طور پر ان کے والدین نے ان کی شادی کے تین دن بعد گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ پولیس کے مطابق والدین اس بات سے ناراض تھے کہ اس نے اپنی ذات سے باہر شادی کی۔

گذشتہ ہفتے 12 نومبر کو بھاونا اور ابھیشیک نے آریہ سماج مندر میں شادی کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Jain BBC
Image caption اس واقعے سے علاقے میں سراسیمگی پائی جاتی ہے

نم آنکھوں کے ساتھ ابھیشیک نے کہا: ’بھاونا کے خواب چھوٹے چھوٹے تھے۔ والدین اس کی شادی سکول کے بعد ہی کروا دینا چاہتے تھے لیکن اسے جینز اور شرٹ پہن کر کالج جانے کی خواہش تھی۔"

’اس نے دہلی یونیورسٹی کے وینكٹیشور کالج میں ایڈمیشن لے لیا۔ شادی کے بعد سب سے پہلے وہ میرے ساتھ شراب چکھنا چاہتی تھی اور ہنی مون کے لیے کسی ساحل پر جانا چاہتی تھی۔

ابھیشیک دہلی میں راشٹرپتی بھون (ایوان صدر) میں بطور اسسٹنٹ پروگرامر کام کرتے ہیں۔

دہلی پولیس کی ڈپٹی کمشنر سمن گوئل کا کہنا ہے کہ بھاونا کے والدین نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔

گوئل نے بی بی سی کو بتایا: ’بھاونا کو انھوں نے اتوار کی صبح اپنے گھر میں گلا گھوٹ کر مار ڈالا۔ پھر ایک شناسا کو فون کرکے کہا کہ بھاونا کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور اسے الور ضلعے میں واقع ان کے گاؤں میں لے جائیں گے۔

گاؤں پہنچتے ہی انھوں نے بھاونا کے جسم کو نذر آتش کر دیا۔

گوئل کے مطابق بھاونا کے والدین ان کی لاش کو کمبل میں لپیٹ کر 150 کلومیٹر تک گاڑی میں چلتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abhishek Seth
Image caption 12 نومبر کو بھاونا اور ابھیشیک نے آریہ سماج مندر میں شادی کر لی تھی

ابھیشیک کو بھاونا کے اب بھی لوٹ آنے کی امید ہے۔

ابھیشیک نے کہا: ’بھاونا کے والدین نے اس کی منگنی نومبر 22 کو طے کر دی تھی۔ اس لیے ہم نے خاندان میں کسی کو بغیر بتائے شادی کر لی۔ ہمیں یقین تھا کی شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔

شادی کے بعد بھاونا اور ابھیشیک بس کچھ ہی دیر ساتھ رہ پائے۔ انھوں نے جیسے ہی بھاونا کے والدین کو شادی کے بارے میں بتایا تو وہ انھیں لینے آ گئے۔

ابھیشیک کہتے ہیں کہ بھاونا کے والدین نے کہا کہ وہ ان دونوں کی شادی دھوم دھام سے پھر کروائیں گے، تب وہ واپس آئے گی۔

ابھیشیک نے بتایا: ’مجھے یاد ہے وہ دن جب ہم شادی کے لیے خریداری کرنے گئے تھے۔ جب اس نے شادی کا جوڑا دکان میں پہنا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ مجھے لگتا ہے وہ واپس آئے گی۔ وہ اتنی جلدی شکست تسلیم کر لینے والوں میں سے نہیں۔

ابھیشیک نے کہا: ’میں جانتا ہوں انھیں بھاونا کو مارنے پر کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ ان کے رشتہ دار اور معاشرے والے انھیں احترام کی نظر سے دیکھیں گے۔ کہیں گے کہ دیکھو عزت کی خاطر اس نے بیٹی کو مار دیا۔

ابھیشیک کا سوال ہے: ’کوئی مجھے بتائے یہ کیسی عزت ہے جس کے لیے انھوں نے میری بیوی کو مار دیا۔ انھیں اب پھانسی ملنی چاہیے تبھی ایسے لوگوں کو سبق ملے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abhishek Seth

بھاونا کے خاندان کے ایک پڑوسی ہرگیان کہتے ہیں: ’میں جگموہن جی کے ساتھ اکثر حقہ پیتا تھا۔ وہ ہر شام گھر سے باہر بیٹھ کر حقہ بناتے تھے اور بڑے دوست نواز آدمی تھے وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کالونی میں بہت سانپ ہیں، شاید واقعی اسے کسی سانپ نے کاٹا ہو یا تو لڑکی نے کچھ ایسا کیا ہوگا جو بہت غلط ہوگا۔

دوسری جانب بھاونا کے کالج میں پڑھنے والی ایک طالبہ سمرن کہتی ہیں: ’ایسے واقعے گاؤں میں ہوتے ہیں، اکثر سننے میں آتا تھا اور دل رو اٹھتا تھا۔ لیکن دلی میں اور وہ بھی ایک بڑے کالج کی طالبہ کے ساتھ یہ ہونا بڑا ہی خوفناک ہے۔ میرے والدین ویسے تو کھلی ذہنیت والے ہیں لیکن ایسی خبر کا ان پر کیا اثر پڑے گا، پتہ نہیں۔

ملک کے دارالحکومت میں ہونے والے اس حادثے نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ کوئی مصدقہ اعداد و شمار تو موجود نہیں لیکن بھارت میں ذات سے باہر شادی کرنے کے معاملے میں ہر سال کئی قتل ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں