حج کے ’ناقد‘ بنگلہ دیشی سیاست دان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش کے سابق وزیر عبدالطیف صدیق کی اس تقریر کے بعد اسلامی تنظیم حفاظتِ اسلام نے ان کو ’مرتد‘ قرار دے دیا

حج پر تنقید کرنے والے بنگلہ دیش کے سابق وزیر اور سینیئر سیاست دان عبدالطیف صدیق کو امریکہ سے وطن واپسی پر ڈھاکہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

عبدالطیف صدیق کی ضمانت کی درخواست مسترد کر کے انھیں توہینِ مذہب کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

صدیق اتوار کو ایک طویل عرصے بعد بیرون ملک سے واپس ڈھاکہ پہنچے تھے۔

صدیق کی گرفتاری کا مطالبہ اس وقت کیا گیا ہے جب انھوں نے ستمبر میں نیویارک میں ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’حج کے بالکل خلاف ہیں۔‘

ان کے اس بیان کے بعد بنگلہ دیش عوامی لیگ نے ان سے ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت واپس لے لی تھی اور مذہبی جماعتوں نے ان کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ صدیق امریکہ میں رہائش پذیر بنگلہ دیشیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’وہ حج کے خلاف ہیں۔

’20 لاکھ افراد سعودی عرب حج کرنے جاتے ہیں جو افرادی قوت کا ضیاع ہے۔ حج پر جانے والے افراد ملکی معیشت سے پیسہ نکال کر بیرون ملک خرچ کرتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش کے سابق وزیر عبدالطیف صدیق کی اس تقریر کے بعد اسلامی تنظیم حفاظتِ اسلام نے ان کو ’مرتد‘ قرار دے دیا۔

77 سالہ صدیق کے خلاف 20 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے صدیق کے کئی وارنٹ گرفتار جاری کیے تھے اور اسی وجہ سے صدیق نے امریکہ اور بھارت میں مزید وقت گزارا۔

ان کے خلاف فردِ جرم ابھی عائد ہونی ہے۔

تاہم اکتوبر میں صدیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ بات ایک چھوٹی سی غیر رسمی نشست کے دوران کہی تھی نہ کہ کسی بڑے مجمعے کے سامنے۔

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انھوں نے اپنے رہنما کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

اسی بارے میں