طالبان کا ماہرِ نفسیات

Image caption نادر کہتے ہیں کہ انھوں نے طالبان کے ہزاروں سپاہیوں کا علاج کیا ہے

90 کی دہائی میں افغانستان طالبان کے قبضے میں تھا، لیکن جس لڑائی نے شدت پسندوں کو فتح دلوائی، اسی لڑائی نے ان پر جنگ کے نفسیاتی اثرات بھی ڈالے۔

ایک ماہرِ نفسیات اس مسئلے کو سمجھ گئے اور طالبان کے نظریات سے اختلاف کے باوجود ان کی مدد کرنے کے لیے راضی ہو گئے۔

سائیکاٹرسٹ نادر علیمی کہتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے جب طالبان کا پہلا گروہ میرے پاس علاج کے لیے آیا تھا۔ وہ ہمیشہ گروہوں میں آتے تھے، اکیلے نہیں۔ جب میں ایک کا علاج کرتا تو وہ باقیوں کو جا کر بتا دیتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption ذہنی مسائل زیادہ تر مسلسل تشدد، غربت، بے روزگاری، گھریلو تشدد اور منشیات کی لت کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں

انھوں نے کہا: ’یہ شدت پسند کاغذ کی پرچیاں لے کر میرے ہسپتال پہنچ جاتے تھے جن پر میرا نام لکھا ہوتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے ان کے دوست کا علاج کیا ہے اور وہ بھی ٹھیک ہونا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کئی تو کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس گئے ہی نہیں تھے۔‘

علیمی افغانستان کی ایک معروف شخصیت ہیں اور وہ ملک کے شمالی شہر مزار شریف میں رہتے ہیں۔ اگست سنہ 1998 میں طالبان شدت پسندوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔

لیکن میدانِ جنگ میں ان کی کامیابی دیکھنے کے ساتھ ساتھ علیمی کو ان کا ذہنی دباؤ بھی دکھائی دے رہا تھا وہ سالہاسال کی لڑائی کی وجہ سے جس کا شکار ہو گئے تھے۔

وہ شمالی افغانستان میں واحد پشتو بولنے والے نفسیاتی ماہر تھے۔ طالبان کی اکثریت بھی پشتو بولتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’زبان بہت اہمیت رکھتی ہے۔ وہ میرے ساتھ کھل کر بات کر سکتے تھے کیونکہ میں ان کی زبان بولتا تھا۔‘

ایک دن طالبان کے صوبائی گورنر اختر عثمانی نے علیمی کو اپنے پاس بلایا۔ مُلا اختر طالبان کے رہنما مُلا عمر کے نائب تھے۔

نادر نے کہا: ’مُلا اختر کو عجیب و غریب آوازیں آتی تھیں اور وہ حواس باختہ ہو گئے تھے۔ ان کے محافظوں نے مجھے بتایا کہ رات کو انھیں مُلا اختر کی بڑبڑانے کی آوازیں آتی رہیں۔ مُلا اختر کے عملے کا بھی کہنا تھا کہ کبھی کبھی تو وہ انھیں پہچان بھی نہیں پاتے تھے۔‘

نادر علیمی نے مزید کہا کہ ’یہ آدمی میدان جنگ میں کتنی دیر رہا ہوگا اور اس نے اپنے ارد گرد کتنے لوگ ہلاک ہوتے ہوئے دیکھے ہوں گے۔ اپنے دفتر میں بیٹھنے کے باوجود وہ سارے دھماکے اور چیخیں اس کے ذہن میں گونجتی ہوں گی۔‘

نادر علیمی مُلا اختر کو روزانہ مل کر ان کا طویل مدتی علاج کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے یہ مریض ہر تین مہینے بعد ایک نئے مشن پر نکل جاتے تھے۔ کئی سال بعد سنہ 2006 میں مُلا اختر ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

نادر علیمی نے طالبان کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں کا بھی علاج کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک طرح کے دوست بن گئے۔ ایک نے مجھے اپنے ہیڈ کوارٹر میں ملنے کا کہا۔ وہ ڈیپریشن اور دائمی درد میں مبتلا تھے اور میں نے ان کے مرض کے خاتمے کے لیے دوائیاں تجویز کیں۔‘

انھوں نے کہا: ’مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے کتنے لوگوں کا علاج کیا ہوگا لیکن مریضوں کی تعداد یقیناً ہزاروں میں ہو گی۔ میں نے تقریباً تین سال سے ان کا علاج کیا اور پھر سنہ 2001 میں مزارِ شریف پر دوبارہ قبضہ ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مزار شریف میں نادر علیمی کا نفسیاتی امراض کا ہسپتال

علیمی کا کہنا ہے کہ ان سے ملنے والے کئی لوگوں کی زندگیاں ان کے اپنے بس میں نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگیاں ان کے کمانڈروں کے ہاتھوں میں تھیں۔ نادر نے کہا کہ وہ لوگ زیادہ تر ڈیپریشن کے مریض تھے کیونکہ انھیں پتہ تھا کہ ان کی زندگی منٹوں میں بدل سکتی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کیسے۔

علیمی نے کہا کہ ’کئی سپاہی مرنا چاہتے تھے لیکن وہ خودکشی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے۔‘

نادر علیمی کہتے ہیں کہ وہ ان طالبان کا علاج اپنے باقی مریضوں کی طرح انسانی ہمدردی کی نیت سے کرتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھی طالبان عسکریت پسند رو پڑتے تھے اور وہ انھیں تسلی دیتے تھے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ نادر کے مریض زیادہ تر مہمات پر بھیجے جاتے تھے اور اس وجہ سے وہ ان کا علاج ٹھیک طرح نہیں کر پاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سنہ 2010 میں وزارت صحت نے کہا تھا کہ آبادی کا دو تہائی حصہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہے

نادر کی مشورہ فیس ایک ڈالر تھی اور طالبان کبھی کبھی اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو بھی ان کے پاس بھیجتے تھے۔ نادر کہتے ہیں کہ ان خواتین کو اپنے شوہروں اور والدین سے طویل جدائی کی وجہ سے ڈیپریشن ہو گیا تھا۔

15 سال کے بعد بھی نادر اب بھی ان افغانیوں کا علاج کرتے ہیں جو بدامنی سے ذہنی طور پر متاثر ہیں۔ ان کے ہسپتال میںمردوں اور خواتین دونوں کی طویل قطاریں ہیں جنھیں ڈیپریشن، مزاج کی پراگندگی اور ڈراؤنے خواب جیسے مرض لاحق ہیں۔

نادر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ غیر یقینی صورت حال ہے۔ انھیں مشقت اور محرومی کا سامنا ہے اور انھیں یہ نہیں پتہ کہ مستقبل میں ان کا کیا بنے گا۔

اسی بارے میں