افغان ترجمان طالبان کے رحم و کرم پر

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption بہت سے افغان ترجمان پولی گراف ٹیسٹ پاس نہ کر سکنے کی وجہ سے بلیک لسٹ ہوئے

افغانستان میں امریکی افواج کے لیے ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے والے مقامی افراد اب طالبان کے نشانے پر ہیں۔

امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے 13 برس کے دوران جہاں ایسے ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر امریکہ جا چکے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جنھیں ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کی وجہ سے ویزا نہیں ملا اور اب ان کی جان کو خطرہ ہے۔

اس سال موسمِ بہار میں دو افراد نے نادر کے مکان کی گھنٹی بجائی اور جب وہ باہر آیا تو وہ اسے گھسیٹتے ہوئے مقامی قبرستان کی جانب لے جانے لگے۔

نادر کے مطابق ’جب مجھے احساس ہوا وہ مجھے ہلاک کرنے والے ہیں تو میں نے چیخنا اور ان سے لڑنا شروع کیا۔ میرا بھائی باہر آیا تو انھوں نے مجھ پر گولی چلائی اور پھر بھاگ گئے۔‘

اگر نادر نے مزاحمت نہ کی ہوتی تو اس وقت ان کی ٹانگ میں لگنے والی والی گولی شاید ان کے سر میں لگی ہوتی۔

نادر کا گاؤں کابل سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے اور یہاں طالبان کا اثر نہیں بلکہ مقامی مجاہدین کی ملیشیا ہی اس علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔

تاہم اس کے باوجود طالبان نادر کے گھر تک پہنچ گئے اور اسی وجہ سے اب وہ دیگر کئی سابق ترجمانوں کی طرح کابل میں ہی قیام پذیر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا میں ایک ہی جگہ تھی جہاں میں سکون محسوس کرتا تھا۔ وہ میرا گھر تھا جو اب میرے لیے میدانِ جنگ بن گیا ہے۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق 13 ہزار افغان باشندے ایک خصوصی ویزا پروگرام کے تحت امریکہ جا چکے ہیں اور ان میں سے 70 فیصد ترجمان تھے لیکن نادر جیسے سینکڑوں افراد ایسے بھی ہیں جنھیں نہ صرف اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ انھیں ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ بھی کر دیا گیا۔

نادر کو اس بنا پر نوکری سے برخاست کیا گیا تھا کہ انھوں نے فوجیوں کے کہنے پر ایک افغان خاتون پر چلّانے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ کچھ کی نوکری گشت کے دوران موبائل فون ساتھ لے جانے کی وجہ سے گئی جبکہ ایک ترجمان تو فوجی اڈے سے واپس جاتے ہوئے امریکی فوجی کی پتلون ساتھ لے جانے پر برخاست ہوا کیونکہ فوجی وردی کے غلط ہاتھوں میں چلے جانے کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے تھے۔

بہت سے ترجمانوں نے درحقیقت کوئی غلطی بھی نہیں کی بلکہ وہ ’جھوٹ پکڑنے والا‘ پولی گراف ٹیسٹ پاس نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سید کے پاس امریکی فوجیوں کے ہمراہ کام کرنے کی تصاویر بھی ہیں

ترجمانوں کے پولی گراف ٹیسٹ باقاعدگی سے کیے جاتے تھے تاکہ طالبان کے ہمدردوں کی نشاندہی ہو سکے، لیکن ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام قابلِ اعتبار نہیں۔

سید نامی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ وہ پریشان تھے اور امریکی اور کینیڈین فوج کے ساتھ سات سال کام کرنے کے بعد ایک دن جب وہ اپنی چھٹی کے خاتمے پر واپس فوجی اڈے پہنچے تو انھیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

اگرچہ یہ بات درست ہے کہ نوکری سے نکالے جانے والے ترجمانوں میں سے کچھ کی برخاستگی جائز تھی لیکن ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کی جانب سے بلیک لسٹ کیا جانا ان ترجمانوں کے لیے سزائے موت دیے جانے جیسا ہے۔

سید کا کہنا ہے کہ اب تو کابل میں رہنا بھی تحفظ کی ضمانت نہیں اور انھیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

’اگر آج میں کابل میں کہیں پکڑا جاؤں تو وہ مجھے اغوا کر کے تشدد کریں گے اور پھر میرا سر قلم کر دیں گے۔‘

سید کے مطابق وہ اور ان جیسے دیگر ترجمان مدد کے لیے امریکی حکام پر انحصار کیے ہوئے تھے کیونکہ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر ان کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔

افغان ترجمانوں کے لیے ’بلیک لسٹ‘ پر ہونے کا مطلب غیر ملکی افواج، کسی بھی غیر ملکی کمپنی یا افغان حکومت بشمول پولیس اور فوج کے لیے کسی بھی قسم کا کام کرنے کی ممانعت ہے۔

ان افراد کو ہوائی سفر کی اجازت نہیں اور بعض اوقات انھیں ہوائی اڈوں کے احاطے میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔

ان میں سے اکثر افراد اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں اور دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر اب کوئی بھی نوکری کرنے کے لائق نہیں رہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ ان افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے ’جنھوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہماری مدد کی۔‘

تاہم محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق جہاں صرف رواں برس میں افغانیوں کو نو ہزار خصوصی ویزے دیے گئے ہیں اور اس پروگرام میں 2015 تک توسیع بھی کی گئی ہے لیکن ’برخاست کیے جانے والے افراد کے لیے ویزا حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افغان ترجمانوں کے مطابق انھیں طالبان کی جانب سے باقاعدہ دھمکیاں دی گئی ہیں

ایسے ہی ایک ترجمان خالد نے صوبہ ہلمند میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے ساتھ کام کیا۔

ان کے مطابق ’حالات بہت خراب تھے۔ سارا دن لڑائی ہوتی تھی۔ مجھے ایک بار گولی بھی لگی جبکہ دو مرتبہ دھماکے کا نشانہ بنا۔ اب کبھی کبھار میں راتوں کو اٹھ کر چیخنے لگتا ہوں۔‘

جب ہلمند کا فوجی اڈا بند ہوا تو انھوں نے کابل میں ایک امریکی کمپنی کے ساتھ کام شروع کر دیا لیکن پھر اس نے دوبارہ ترجمان کے حیثیت سے کام کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ انھیں ’بلیک لسٹ‘ کر دیا گیا ہے۔

خالد کے استفسار پر بتایا گیا کہ ان پر لگنے والی پابندی کی وجہ ایک امریکی شہری کے ساتھ ان کی بدتمیزی تھی۔

ان کے مطابق ’میں اس خاتون کو جانتا ہوں، میری اس سے توتکار ہوئی اور اس نے مجھے بلیک لسٹ کروا دیا۔‘

خالد کی والدہ انتقال کر چکی ہیں جبکہ والد ضعیف ہیں اور اپنے چار بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری خالد کی ہے لیکن وہ بھیس بدلے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتے۔

’ہم بہت خطرے میں ہیں۔ یہاں آتے ہوئے بھی مجھے منھ چھپا کر آنا پڑا۔‘

طالبان یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ کابل میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اور اب جبکہ غیر ملکی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں، ان ترجمانوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں