توانائی کے شعبے میں علاقائی تعاون کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا؟

Image caption سارک ممالک میں سے بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان میں پہلے ہی بھارت سے بجلی کی ترسیل کا نظام موجود ہے

کھٹمنڈو میں جمعرات کو ختم ہونے والے 18ویں سارک سربراہ اجلاس میں جنوبی ایشیائی ممالک کے خطے میں توانائی کے نیٹ ورک کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے جس سے ان ممالک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔

اگرچہ علاقائی تعاون کے معاملے میں سارک کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں لیکن ایسا لگا رہا ہے کہ ان ممالک میں توانائی کے شعبے کی دگرگوں صورتحال نے رہنماؤں کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ہی ممالک اس وقت بجلی کے بحران کا شکار ہیں۔

پاکستان میں روزانہ 12 سے 16 گھنٹے بجلی کی بندش عام ہے جبکہ نیپال میں بھی 15 گھنٹے روزانہ کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

موسمِ سرما میں افغانستان میں بھی بجلی کی قلت ہوتی ہے جبکہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ویسے ہی بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔

بنگلہ دیش اگرچہ اس بات کا دعویدار ہے کہ سنہ 2013 میں اس نے اپنی ضرورت کے مطابق بجلی کی دستیابی کو ممکن بنا لیا ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب بھی ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو بجلی میسر ہی نہیں ہے۔

اسی طرح سری لنکا میں جہاں 25 فیصد آبادی کے گھروں میں بجلی ہے ہی نہیں وہیں باقی آبادی کو بھی اس کی کمی کا سامنا ہے۔

خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت میں اگرچہ گذشتہ چند برس میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوششیں ہوئی ہیں لیکن پیشنگوئی یہی ہے کہ 2032 تک وہاں بجلی کے استعمال میں چار سے پانچ گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس وقت بھی ایک ارب سے زیادہ آبادی والے بھارت میں 60 کروڑ افراد کو بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے اس خطے میں بہت مواقع موجود ہیں اور بجلی کی ترسیل کا ایک مربوط علاقائی نظام ان ممالک میں بجلی کی کمی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے خطے میں توانائی کے شعبے پر اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں قدرتی گیس کے بڑے ذخائر ہیں وہیں بھوٹان اور نیپال میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے شاندار ذرائع موجود ہیں اور اگر ان ذرائع کی شراکت ممکن ہو تو قدرتی طور پر خطے بھر کی توانائی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں روزانہ 12 سے 16 گھنٹے بجلی کی بندش عام ہے جبکہ نیپال میں بھی 15 گھنٹے روزانہ کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے

’سارک‘ نے ماضی میں علاقائی سطح پر توانائی کے شعبے میں تعاون پر کئی تحقیقاتی رپورٹس تیار کروائی ہیں اور اسی سلسلے میں سنہ 2000 سے اسلام آباد میں ایک ریجنل انرجی سنٹر بھی قائم ہے۔

لیکن ان رپورٹس میں سے کسی ایک کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا جس کی وجہ خطے کے جغرافیائی و سیاسی مسائل کے علاوہ اس معاملے میں حکام کی عدم دلچسپی بھی ہے۔

18ویں سارک اجلاس کے میزبان ملک نیپال کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کھگاناتھ ادھیکرے کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ماضی سے مختلف ہے کیونکہ اس میں سرکاری اور نجی کمپنیوں کو رکن ممالک کے درمیان بجلی کی خریدوفروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاہدے کی وجہ سے رکن ممالک کے درمیان بجلی کی ترسیل کی لائنیں بچھانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔‘

توانائی کے معاملات پر پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کا علاقائی نیٹ ورک خطے میں توانائی کے مسائل کے تناظر میں ایک کارآمد خیال ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس مسئلے کو علاقائی سطح پر قابلِ قبول شرائط کے تحت حل کرنا ہی مناسب ہے اور ہم نے معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل سیر حاصل بات چیت کی ہے۔‘

خطے میں بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان میں پہلے ہی بھارت سے بجلی کی ترسیل کا نظام موجود ہے جس میں بہتری کے منصوبے موجود ہیں۔

گذشتہ ماہ جب سارک کے رکن ممالک کے وزرائے توانائی ’علاقائی توانائی گرڈ‘ پر ابتدائی بات چیت کے لیے جمع ہوئے تھے تو پاکستانی وزیر تو وہاں موجود نہ تھے لیکن اس اجلاس میں بھارتی وزیرِ توانائی نے کہا تھا کہ ’دریا ایک ہی سمت میں بہتے ہیں لیکن توانائی کا دریا ہماری مرضی کی سمت میں بہہ سکتا ہے۔ میں آئندہ چند برس میں سارک ممالک کے پاورگرڈ کا خواب دیکھ رہا ہوں۔‘

تاہم اس نیٹ ورک کے خیال پر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بھارت کے غیر مستحکم تعلقات کی وجہ سے ایسا کرنا آسان نہ ہوگا اور یہی اس معاہدے پر لگنے والا سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اسی بارے میں