نس بندی میں سائیکل پمپ کے استعمال پر مہم بند

تصویر کے کاپی رائٹ ALOK PUTUL
Image caption بھارت میں نس بندی کے آپریشنوں کے دوران صحت کے اصولوں کو مدِنظر نہ رکھنے کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ کی حکومت نے ریاست میں جاری عوامی نس بندی پروگرام پر پابندی لگا دی ہے۔

یہ پابندی ایک انکوائری کے نتیجے میں ہونے والے اس انکشاف کے بعد لگائی گئی ہے کہ ایک ڈاکٹر نے اس عمل کے دوران خواتین کے معدوں میں ہوا بھرنے کے لیے سائیکل میں ہوا بھرنے والا پمپ استعمال کیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ڈاکٹر نے گذشتہ جمعے کو لگائے گئے ایک کیمپ میں 56 خواتین پر اس پمپ کا استعمال کیا۔

اڑیسہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے کیے جانے والے اس عمل میں عام ہوا کا استعمال بہت سے طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

بھارت میں نس بندی کے آپریشنوں کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھے جانے کا معاملہ آج کل خبروں میں ہے۔

گذشتہ ماہ اڑیسہ کی ہمسایہ ریاست چھتیس گڑھ میں ایک ڈاکٹر کو نس بندی کیمپ میں آپریشن کروانے والی متعدد خواتین کی ہلاکت کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔

چھتیس گڑھ میں ایسے آپریشنوں کے نتیجے میں سو سے زیادہ خواتین بیمار پڑ گئی تھیں جن میں سے 15 جانبر نہ ہو سکی تھیں۔

اس معاملے کی تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ ان خواتین کو دی جانے والی ادویات میں زنک فوسفائیڈ جیسے زہریلے مادے شامل تھے جنھیں چوہے مار ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

بھارت میں خواتین میں ٹیوبکٹومی اور مردوں میں ویزکٹومی یعنی نس بندی کا آپریشن عام ہے اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو نس بندی کے لیے لانے والے ہر شخص کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔

نس بندی کرانے والوں میں زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں جو عام طور پر غریب ہوتی ہیں اور وہ بظاہر رقم کے لالچ میں یہ عمل کرواتی ہیں۔

اسی بارے میں