’انار افغانستان کی مشکلات کا حل بن سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ b

افغانستان کی ایک تصویر تو وہ ہے جس میں پوست کے بڑے بڑے کھیت نظر آتے ہیں جس کے ہم سب عادی ہو چکے ہیں لیکن ایک اور تصویر ہے جو افغانستان، دنیا کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہے جس میں پوست نہیں، پھلوں سے لدے باغ دکھائی دیتے ہوں۔

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں فصلوں کی کٹائی کا موسم ختم ہونے کو ہے اور کاشت کار بڑی احتیاط سے اپنے ہاتھوں سے باغوں میں پکے ہوئے چمکدار سُرخ انار اتار رہے ہیں جو کہ خشک میووں اور انگور کی طرح افغانستان کی مہنگی ترین فصلوں میں سے ایک ہے۔

مگر یہ کاشت کار اقلیت میں ہیں۔ افغانستان کے جنوبی صوبوں میں کئی دوسرے لوگ اب بھی پوست اُگاتے ہیں جس سے نہ صرف افیون کی تجارت بلکہ مسلح شورش کو بھی ایندھن ملتا ہے۔

پوست تمام پھلوں سے 14 گنا زیادہ منافع بخش ہے اس لیے افغان حکومت کو کاشت کاروں کو قانونی فصلیں اگانے پر قائل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے تاکہ ملک کی کمزور معیشت کو سہارا ملے۔

امریکہ افغانستان میں پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے مگر آدھے سے زیادہ افغانستان میں اب پوست کاشت ہوتی ہے اور پوست کی پیداوار میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کابل کے ایک گودام کے باہر ٹرکوں سے انار کی پیٹیاں اتاری جا رہی ہیں اور اندر انھیں ترتیب سے رکھا جا رہا ہے۔ انھیں وہاں سے بین الاقوامی منڈیوں میں لے جایا جانا ہے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔

نجلہ حبیب یار ایک افغان اہلکار ہیں اور زرعی پیداوار کی برآمد بڑھانے کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس میں کئی طرح کی مشکلات ہیں۔

’ہماری برآمدات کے لیے صرف سکیورٹی کا ہی مسئلہ نہیں۔ بنیادی چیلنجز سرد خانوں، پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے لیے باقاعدہ سہولتوں کا موجود ہونا ہے اور ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس حتمی کوالٹی چیک کے لیے کوئی بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یا بین الاقوامی معیار کا ادارہ موجود نہیں ہے۔ ہمیں ڈھانچے کو کام کے قابل بنانے کے لیے بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے۔‘

مگر اب یہ امید ہے کہ انار اس مسئلے کا ایک حل ہو سکتا ہے۔

ایڈم پرِٹ چارڈ کے پاس ایک منصوبہ ہے۔ وہ پچھلے دو برسوں سے برطانیہ کے جنوب مغربی علاقے میں واقع اپنی جوس فیکٹری کے لیے افغانستان سے انار کا رس درآمد کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ f

ان کا کہنا ہے کہ ’افغانستان کی انار کی فصل افغان معیشت کا پائیدار حصہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دنیا کے بہترین انار ہیں۔‘

ایڈم کے مطابق ’اگر افغانستان کو اپنی معیشت کے سہارے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے تو سبسڈیز اور خیرات پر انحصار سے یہ ممکن نہیں۔ جس طرح سے برطانوی سیب، برطانیہ کا ہم معنی ہے جسے ہم پروسیس کر کے جوس نکالتے ہیں، افغان انار بھی اس سے کسی طرح مختلف نہیں۔ اور عقل بھی یہی کہتی ہے۔ مجھے کوئی شبہ نہیں کہ یہ افغانستان کے لیے ایک اچھی صنعت ہوگی۔‘

چونکہ افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد آئندہ سالوں میں کم ہوتی جائے گی، افغان کاشت کاروں کو امید ہے کہ آج جو ممالک اُسے مدد دیتے ہیں، وہ کل افغان پیداوار کے خریدار بھی بن سکتے ہیں، خاص طور پر قندھاری انار کے۔

انار کی پیداوار میں 33 فیصد اضافہ متوقع ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن پوست کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

ایڈم افغانستان میں کاروبار کی مشکلات سے بخوبی واقف ہیں۔ دو سال قبل اس نے افغانستان سے انار کا جوس درآمد کرنے کی کوشش کی لیکن یہ مشکل کام ثابت ہوا۔

’مجھے یہ سمجھ آئی کہ اگر افغانستان کے انار دنیا کے بہترین انار ہیں تو انہیں وہاں سے لانا بھی دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ اگر اس کام میں رکاوٹیں دور ہو جائیں تو افغانستان کا انار ملک کی میعشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

لیکن افغانستان میں پھلوں کے باغات کے مالکان کے لیے اپنے مال کو منڈی پہنچانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں بہت بڑی ہیں۔ پھلوں کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات میسر نہیں۔ اور ملک میں ابھی عالمی معیار پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کوئی ڈھانچہ موجود نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ f

افغانستان اگر پھلوں کی پیداوار میں تمام چیلنجوں کا مقابلہ کر لیتا ہے تو اس میں پھل برآمد کرنے والا بڑا ملک بننے کی خواہش موجود ہے۔ اور اگر یہ اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو افغانستان کے انار برطانیہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں روانہ کیے جانے سے پہلے یہاں پیک کیے جائیں گے۔

افغانستان میں لوگوں کو اندازہ ہے کہ یورپی منڈیوں میں رسائی آسان نہیں ہوگی لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔

ایکسپورٹ پروموشن ایجنسی کے چیف ایگزیکیٹیو افسر نجلہ حبیب یار کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ برس ہم نے کاروباری حلقوں کی حوصلہ افزائی کے لیے برآمد پر دو فیصد ٹیکس ختم کر دیا تھا۔ یہ حقیقت میں سبسڈی ہی ہے۔ ہم برآمدات کے تمام معاملات کے لیے ایک ہی ایجنسی بنا دی ہے۔ اب ضرورت ہے تو اس بات کی کہ عالمی امدادی ادارے کہ وہ بنیادی ڈھانچے کو بنانے میں ہماری مدد کریں۔‘

لیکن جیسے جیسے عالمی امداد بند ہو رہی ہے، پھلوں کے کاروبار سے توقعات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اور ان توقعات کے بر آنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان دنیا کو قائل کر سکے اور ایسا ہو تو آج امداد دینے والے کل خریدار بھی بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں