’حج سبسڈی ختم کرو، مسلمانوں کی تعلیم پر رقم لگاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’مسلمانوں کو حج کے لیے سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ان کی مدد کرنی ہے تو ان کی تعلیم اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد کرو‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یا ایم آئی ایم کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسد دين اویسی نے حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سبسڈی ختم کرنے سے جو رقم ملے گی اس کو مسلمانوں کی تعلیم میں بہتری لانے پر خرچ کیا جائے۔

’حج سبسڈی ختم کر دیں اور مسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خرچ کریں، میری لڑائی سماجی انصاف کی ہے۔‘

بھارت کی حکومت نے 2009 میں ایک لاکھ 21 ہزار ہندوستانی حاجیوں پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ سبسڈی میں ایئر انڈیا کے کرائے میں رعایت اور سعودی عرب میں کھانے، رہنے اور سفر کرنے کے لیے مالی امداد شامل ہے۔

اویسی نے کہا: ’مسلمانوں کو حج کے لیے سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ان کی مدد کرنی ہے تو تعلیم اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں ان کی مدد کرو۔‘

حج سبسڈی ہندوستان کی آزادی سے پہلے سے مسلمانوں کو دی جا رہی ہے۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو کے دور میں 1959 میں حج ایکٹ کے تحت یہ سبسڈی جاری رکھی گئی۔

کئی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس سبسڈی کو ختم کر دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے 2012 کے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ دس سالوں کے اندر اندر حج سبسڈی ختم کر دینی چاہیے۔

اویسی نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی سماجی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں کیونکہ انھیں اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی پر اویسی کہتے ہیں: ’بہت سے لوگ ہیں جو ہمارے لیڈر ہیں۔ نہرو سے لے کر مولانا ملائم تک۔ انھیں اپنا لیڈر مان کر ہمیں کیا ملا، ہمیں اپنے وطنِ عزیز میں کیا ملا؟ ترقی پذیر ہندوستان میں مسلمانوں کی امیدیں کہاں پوری ہو رہی ہیں؟‘

اسی بارے میں