’ایسا لگا جیسے کسی نے پتلیاں نکال لی ہوں‘

Image caption اب ایک سیاہ چشمہ جوگندر سنگھ کا نیا ساتھی ہے

اس ایک اعلان نے جوگندر سنگھ کے دل میں امید کی کرن پیدا کی تھی یہ امید کہ موتيا کی بیماری کی وجہ سے دھندلی ہو جانے والی ان کی آنکھ دوبارہ روشن ہو جائے گی لیکن جوگندر سنگھ کی دنیا اب بالکل سیاہ ہے۔

ان کی جس آنکھ کا آپریشن ہوا تھا اس سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی تو 20 سال پہلے ایک حادثے میں جا چکی تھی۔

اب اپنی بےنور آنکھوں سے کبھی میری اور کبھی دوسری طرف دیکھتے اور پھر آواز سے مخاطب کی سمت کا اندازہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گاؤں اور قریبی علاقے میں منادی ہوئی تھی کہ جن لوگوں کو آنکھ ٹھیک کروانی ہے، کیمپ لگ رہا ہے وہاں جائیں۔‘

وہ کہتے ہیں، ’کیونکہ یہ مفت تھا تو بہت سارے لوگ اس کے لیے تیار ہو گئے لیکن کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ان کی بینائی چلی جائے گی۔‘

جو 19 افراد فی الحال امرتسر کے میڈیکل کالج میں بینائی چلے جانے کی شکایت لے کر آئے ہیں ان تمام کا تعلق غریب طبقے سے ہے۔

جوگندر سنگھ کا گزارا ان بکریوں سے ہوتا ہے جس کی دیکھ بھال وہ اور ان کی بیوی مل کر کرتے ہیں۔

بھارتی پنجاب کے محکمۂ صحت کے سیکرٹری وني مہاجن کے مطابق مجموعی طور 20 ایسے مریض ہیں جو موتيا کے آپریشن کے بعد آنکھوں کے انفیکشن کا شکار ہوئے ہیں اور اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے آنکھوں کی روشنی مکمل طور پر چلی جائے گی۔

وني مہاجن نے کہا کہ ان 20 لوگوں کا آپریشن ان 110 دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوا جس کا انتظام متھرا کے ایک خیراتی ادارے نے کیا تھا۔

اس ادارے سے وابستہ لوگوں نے جوگندر سنگھ اور دوسرے لوگوں سے فارم بھروائے اور پھر انہیں گاڑیوں میں بٹھا كر کیمپ میں لے جایا گیا جہاں ان کے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن گرو نانک ملٹی سپیشيئلیٹي ہسپتال میں کیا گیا ہے۔

جوگندر سنگھ کہتے ہیں کہ آپریشن کے بعد ان سے کہا گیا کہ کوئی انھیں پھر سے لینے آئے گا لیکن کوئی نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے آنکھ بنائی وہ یہ کام ڈھنگ سے کر ہی نہیں سکے۔

وہ کہتے ہیں،’ایسا لگا جیسے پتلياں نکال لی ہوں۔‘

جوگندر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کی آنکھیں آپریشن اور اس کے بعد دوائی ڈالنے کے نتیجے میں آہستہ آہستہ سفید ہونے لگی تھی اور بعد میں اس میں سے مسلسل پانی بہنے لگا۔

ہم سے بات کرتے ہوئے بھی جوگندر سنگھ کی آنکھوں سے پانی نکلتا رہا جسے ان کی بیوی وقفے وقفے سے آنکھوں پر موجود سیاہ شیشوں والی عینک ہٹا کر صاف کرتي رہیں۔

اب یہ سیاہ چشمہ جوگندر سنگھ کا نیا ساتھی ہے اور ہم سے باتیں کرنے کے دوران کسی وقت ان کی ناک پر چڑھ بیٹھا تھا۔

اسی بارے میں