ہریانہ: کشمیری طلبہ میں جھڑپ اور فرقہ وارانہ رنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Vinod Dhiman
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ چار کشمیری طلبہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ طلبہ کا کہنا ہے کہ کم از کم دس زخمی ہوئے ہیں

بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس کا کہنا ہے ایک انجینئرنگ کالج میں جموں و کشمیر کے طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والے پر تشدد واقعات میں کئی طلبہ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ سنیچر کو يمنانگر کے رادور میں قائم گلوبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں پیش آیا اور اس نے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرلیا۔

تاہم يمنانگر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وید پرکاش نے اس سے انکار کرتے ہوئے بی بی سی کے دلنواز پاشا کو بتایا: ’یہ واقعہ سنیچر کو دوپہر ایک بجے کینٹین میں ہونے والے ایک تنازع سے شروع ہوا جس میں کم سے کم چار طالب علم زخمی ہو گئے ہیں اور انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ واقعہ ہریانہ میں قائم ایک انجینیئرنگ کالج میں سنیچر کو پیش آيا

انھوں نے کہا: ’طلبہ کی شکایت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان کے بیان بھی درج کیے گئے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں باہر کے لوگ شامل نہیں تھے اور یہ طالب علموں کے درمیان کا مسئلہ تھا جبکہ کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ اس میں مقامی لوگ شامل ہوئے اور اس نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا تھا۔

پولیس کے مطابق انسٹی ٹیوٹ میں پولیس فورس تعینات کر دی گئي ہے اور کشمیری طالب علموں کو مکمل سکیورٹی دی جا رہی ہے۔

وید پرکاش نے کہا: ’اس واقعے کو میڈیا فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حالت مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ میں خود کالج میں موجود ہوں۔ کالج میں موسم سرما کی تعطیلات کی وجہ کشمیر سے آنے والے کچھ طلبہ واپس لوٹ رہے ہیں۔‘

ہسپتال میں داخل کشمیری طالب علم اظہرالدین اور مشہور سے جب دلنواز نے بات کی تو انھوں نے بتایا: ’(کیمپس کے) باہر سے آنے والے لوگوں نے ہم پر حملہ کیا۔ ان میں سے بعض لوگوں کے پاس دیسی ہتھیار بھی تھے۔ ہم بچنے کے لیے پولیس سٹیشن کی طرف بھاگے۔ تین کلومیٹر کے راستے میں ہمیں روک روک کر پیٹا گیا۔ کسی طرح ہم پولیس سٹیشن پہنچے اور جان بچائی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Vinod Dhiman
Image caption کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ محفوظ کیمپس ملنے کے بعد ہی وہ تعلیم جاری رکھ سکیں گے

انھوں نے بتایا: ’کینٹین میں رونما ہونے والا معاملہ ختم ہو گیا تھا۔ اگر باہر سے لوگ نہیں آتے تو بات اتنی نہیں بڑھتی۔ ایک طرف سے اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے تو دوسری جانب سے بم بم بولے کے۔ اس سے معاملہ ہندو مسلم کے درمیان ہوگیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان پرتشدد واقعات میں تقریبا 10 کشمیری طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے بعد سے ہم سب بہت ڈرے ہوئے ہیں اور واپس وادی لوٹنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی محفوظ کیمپس ملے گا تب ہی ہم سب آگے کی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔‘

ہسپتال میں داخل کشمیری طالب علم آشیش کا کہنا ہے: ’جموں اور کشمیر کے ہندو اور مسلمان طلبہ کے درمیان کینٹین میں تنازعہ ہوا تھا۔ دونوں جانب سے نعرے بازی بھی ہوئی۔نعرے بازی سن کر باہر کے لوگ آ گئے اور انھوں نے کشمیری طلبہ پر حملہ کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ کنٹرول میں ہے

انھوں نے مزید بتایا: ’میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ کشمیر کے طالب علموں سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔‘

شمالی ہندوستان کے کالجوں میں کشمیری طالب علموں پر مبینہ حملوں کے واقعات پہلے بھی ہوئے ہیں۔

اسی سال مارچ میں دہلی سے دو گھنٹے کے سفر کے فاصلے پر میرٹھ شہر میں سوامی وویکانند سوبھارتي یونیورسٹی میں بھارت اور پاکستان کرکٹ میچ کے دوران مبینہ طور کچھ کشمیری طلبہ کے پاکستان کی حمایت کرنے کے بعد 67 کشمیری طلبہ کو نکال دیا گیا تھا۔ ان طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ بھی درج کیاگیا تھا جو بعد میں واپس لے لیا گیا۔

مارچ میں ہی دہلی کے نويڈا میں واقع شاردا یونیورسٹی میں بھی کشمیری طالب علموں کے کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر تنازع ہو گیا تھا۔ کچھ کشمیری طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں