بدعنوانی ایران کے لیے بڑا خطرہ ہے: حسن روحانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران میں اگست سنہ 2013 سے قائم ہونے والی صدر حسن روحانی کی حکومت میں بدعنوانی کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں

ایران کے صدر حسن روحانی نے خبردار کیا ہے کہ بدعنوانی اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

ایرانی صدر نے پیر کو تہران میں جاری ایک کانفرنس کے مندوبین کو بتایا کہ ملک میں جاری بدعنوانی اور اس کے پھیلاؤ کا مطلب ہے کہ اسلامی انقلاب کی بنیادیں اور نظام خطرے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کا مقصد ملک سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ تھا۔

حسن روحانی کے مطابق: ’ملک میں بدعنوانی کی بڑی وجہ اجارہ داری ہے اور ہمیں اس کے خلاف ہر صورت میں لڑنا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی بھی چیز جس کا مقابلہ نہ ہو یا جس کی مینیجمنٹ میں اجارہ داری ہو، اس میں خامیاں ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر عائد کی جانے والی پابندیاں بھی ایران میں بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان پابندیوں کی وجہ سے سرکاری اہلکار اور مختلف کمپنیوں کے مینیجر رشوتیں لیتے ہیں۔

ایران میں اگست سنہ 2013 سے قائم ہونے والی صدر حسن روحانی کی حکومت میں بدعنوانی کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

ایران کے میڈیا کے مطابق ستمبر میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے دوران محمد رضا رحیمی کو بدعنوانی کی وجہ سے قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ ایران کا شمار دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں ہوتا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سنہ 2014 کے انڈیکس کے مطابق ایران کا بدعنوان ممالک میں 136 واں نمبر ہے۔

ایران میں بدعنوانی کا بڑا حصہ ریاستی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فوج بھی بدعنوان اداروں میں شامل ہے۔ ایرانی فوج ٹیلی کام کی جانب سے تیل کی فروخت سے لے کر ملک کے کاروبار اور ٹریڈ کی سہولت کے لیے رشوت کی ادائیگی کو کنٹرول کرتی ہے۔

ایران میں، جہاں فوج جیسے سرکاری ادارے ٹیلی کام سے لے کر تیل کی فروخت تک کو کنٹرول کرتے ہیں، زیادہ تر رشوت کاروبار کو بڑھانے کے لیے دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں