’بوائے فرینڈ بھی بین کر دو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی میں گزشتہ برس ریپ کی ایک واردات کے بعد پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے

ایک خاتون کے ریپ کے بعد جوں ہی دلی حکومت نے ’اوبر‘ اور دوسرے انٹرنیٹ پر بکنگ کی سہولت دینے والی دیگر ٹیکسی سروسز پر پابندی لگانے کا اعلان کیا، معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ پر جوشیلے بھارتیوں نے اپنی حس مزاح کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایسی تمام چیزوں کی ایک طویل فہرست بنانا شروع کر دی ہے جن پر پابندی لگانے سے ریپ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قلع قمع ہو جائے گا۔

بی بی سی ہندی کی پارُل اگروال بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ٹیکسی سروس پر پابندی پر بات لطیفوں اور طنزیہ تبصروں سے شروع ہو کر مایوسی تک جا نکلی۔

پڑوسیوں، شوہروراور بوائے فرینڈز پرپابندی لگا دو

The Acorn Blog پر بلاگر نیتن پائی نے لکھا:

’دلی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بالغ مردوں اور بالغ عورتوں کے درمیان ہر قسم کے تعلق پر پابندی لگا دے۔ بوائے فرینڈز پر پابندی لگنی چاہیے۔ شادی کے رشتے میں ریپ کو روکنے کے لیے شوہروں پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے۔‘

اس بحث میں حصہ لینے والے کئی لوگوں کا خیال تھا کہ مذکورہ ریپ کی وجہ محض انٹرنیٹ پر ٹیکسی بک کرانے والی ایپلیکیشن یا ’ایپ‘ نہیں بلکہ ریپ کی ذمہ دار بڑی پیچیدہ اور تلخ معاشرتی حقیقتیں اور رویے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption نئی دہلی میں ریپ کی وارداتوں کی شرح بہت زیادہ ہے

سیتھ شروتی نے ٹویٹ کیا: میں جانتی ہوں کہ سارا ملبہ ’اوبر‘ پر کیوں گرایا جا رہا ہے، اس لیے کہ ریپ کرنے والے بھارتی اس وقت تک ریپ نہیں کرتے جب تک انہیں کوئی کار نہ دے۔

صرف ’اوبر‘ ہی کیوں، تمام ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دو

اپنا طنزیہ انداز جاری رکھتے ہوئے نیتن پائی نے لکھا کہ ’ بس، میٹرو اور ٹرین کے تمام ڈرائیوروں کو ہر صبح ڈرائیونگ سیٹ والے حصے میں جکڑ دیا جائے اور صرف اس وقت باہر نکالا جائے جب ان کی شِفٹ ختم ہو جائے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب سنہ 2012 میں ایک بس میں ایک لڑکی کو ریپ کیا گیا تھا، حکومت کو چاہیے تھا کہ بسوں پر ہی پابندی لگا دیتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیکن اس سلسلے میں ہمیں ایک سنجیدہ نکتے کو نہیں بھولنا چاہیے۔ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ بتا سکتی ہوں کہ دلی میں ایک ملازمت پیشہ خاتون سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ وہ ملازمت اور ذاتی حفاظت میں سے کس ایک چیز کا انتخاب کریں۔ کچھ ملازمت پیشہ خواتین کام پر جانے اور شام کو کہیں باہر جانے کے لیے انٹرنیٹ پر بکنگ فراہم کرنے والی سستی ٹیکسی سروس پر ہی بھروسہ کرتی ہیں، خاص طور شام کو جب وہ ایسے کپڑے پہن سکتی ہیں جو وہ دن میں پبلک ٹرانسپورٹ میں نہیں پہن سکتیں۔

اسیم روستانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ تو اب اوبر کے بعد تمام انٹرنیٹ والی ٹیکسی سروسز پر پابندی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اب تمام خواتین خود کو اس قدر محفوظ تصور کریں گی، ہے ناں!‘

مسئلہ اوبر نہیں خواتین ہیں، چلو خواتین پر ہی پابندی لگا دو

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے بے شمار ایسی وجوہات بتائی ہیں جو ان کے خیال میں ریپ کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں خواتین کے لباس سے لےکر یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ کا ستارہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا :’ اوبر پر پابندی زبردست قدم ہے۔ شاباش۔ اب دفتروں پر بھی پابندی لگا دو، کالجوں، ریستورانوں، سینماؤں، بلکہ ہر اس جگہ پر پابندی لگا دو جہاں جہاں خواتین جاتی ہیں۔ بلکہ عورتوں کے گھر سے نکلنے پر ہی پابندی لگا دو۔‘

موبائل فون اور بجلی بھی بند کر دو

لگتا ہے کہ اوبر پر پابندی سے شروع ہونے والی بحث میں لوگ جن دوسری چیزوں پر پابندی کا کہہ رہے ہیں ان کی فہرست ختم ہونے والی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کپڑے، کلب، زندگی سب پر پابندی مگر مجرم آزاد

یہ ٹویٹ پڑھ کر مجھے ایک واقعہ یاد آیا جب میری ایک دوست پہلی مرتبہ دلی آنے والی ایک خاتون کو بتا رہی تھی کہ یہاں اسے کیا کرنا چاہیے۔ ’ ٹیکسی میں بالکل نھیں بیٹھنا، صرف میٹرو کے اس ڈبے میں چڑھنا ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہو، بس پر بالکل نہیں چڑھنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ ہدایات دینے کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم اس بےچاری دوست کو اصل میں ہم یہی کہہ رہی ہیں کہ کہیں باہر نہ جائے اور اپنے ہوٹل کے کمرے میں ہی پڑی رہے۔

اگر کوئی چھرا گھونپ دے تو اس پر پٹّی لگا لیں

سوشل میڈیا پر زیادہ تر خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بات سمجھ ہی نہیں آ رہی اور ریپ کے حالیہ واقعے پر اس کا ردعمل گھبراہٹ پر مبنی ہے۔ نظام میں کوئی تبدیلی لانے کی بجائے حکومت صرف دکھاوے کے لیے کام کر رہی ہے۔ شاید اسی لیے یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ریپ کے واقعے کے جواب میں حکومتی اقدامات کا لوگ تمسخر اڑا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ بھارت میں ریپ کے اتنے بڑے بڑے واقعات کے بعد اب لوگ حکومت کی جانب سے چھوٹی موٹی تبدیلیوں یا اقدامات سے اکتا گئے ہیں اور ان کے خیال میں حکومت کو ریپ کے مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

’حکومت کو بس ایک ہی کام آتا ہے۔ پابندی، پابندی، پابندی، ہر چیز پر پابندی لگا دو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service