ایران میں ’سفید شادیوں‘ کا بڑھتا چلن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران کے سخت اسلامی قوانین کے باوجود نوجوان جوڑوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شادی سے پہلے ایک ساتھ رہنے کا انتخاب کر رہی ہے

ایران میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کے باوجود نوجوان جوڑوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شادی سے پہلے ایک ساتھ رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

یہ رواج اتنا عام ہوتا جا رہا ہے کہ ملک کے روحانی پیشوا کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس عمل پرگہری ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

تہران میں رہنے والی سارہ بھی ایک ایسی ہی ایرانی خاتون ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی کو صحیح طرح جاننے کے لیے ان کے ساتھ صرف گھومنا پھرنا کافی نہیں ہے۔ اس لیے میں نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

ایران میں ’وائٹ میرج‘ کے نام سے جانا جانے والا یہ رشتہ کچھ عرصہ قبل تک ناقابل تصور تھا۔

ایک ایسا ملک جہاں کے سخت اسلامی قوانین مخالف جنس سے ہاتھ ملانے کی بھی اجازت نہیں دیتے، وہاں شادی سے پہلے ساتھ رہنے کا جرم مہنگا پڑ سکتا ہے مگر اس خطرے کے باوجود بڑی تعداد میں غیر شادی شدہ نوجوان جوڑے ساتھ رہنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔

اس بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن یہ ’سفید شادیاں‘ اتنی عام ہو گئی ہیں کہ حال ہی میں خواتین کے مقبول ڈائجسٹ ’زنان‘ نے اس موضوع پر ایک پورا شمارہ شائع کیا ہے، جس کے بعد ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ خامنہ ای بھی اس بحث میں شامل ہوگئے ہیں۔

نومبر کے آخر میں ان کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گل پائیگانی نے ایک انتہائی سخت بیان جاری کیا جس میں ساتھ رہنے والے غیر شادی شدہ جوڑوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ zanan
Image caption سفید شادیاں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ حال ہی میں خواتین کے مقبول ڈائجسٹ زنان نے اس موضوع پر ایک پورا شمارہ شائع کیا ہے

بیان میں مزید کہا گیا کہ شادی کے بغیر مرد اور عورت کا ساتھ رہنا انتہائی شرم کی بات ہے، اگر یہ عمل جاری رہا تو جائز نسل کا صفایا ہو جائے گا اور صرف ناجائز نسل رہ جائےگی۔

لیکن نوجوان ایرانیوں کا اپنا نقطۂ نظر ہے۔

تہران میں دو سال سے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہنے والے نوجوان علی کا کہنا ہے کہ ’شادی کرنا بہت مہنگا ہے اور طلاق لینا اس سے بھی زیادہ، میں شادی کر کے پابند کیوں ہو جاؤں؟‘

شہروں میں رہنے والے نوجوان ایرانیوں کے اس طرح کے خیالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی نسل میں مقبول اسلامی اقدار سے دور ہو گئے ہیں۔

سویڈن میں مقیم ایرانی ماہرِ سماجیات مہرداد داروشپور کا کہنا ہے کہ اگرچہ شادی کے بغیر ساتھ رہنا مذہبی طبقے کو قابلِ قبول نہیں مگر باقی دنیا کی طرح اب ایران میں بھی جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے بغیر ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایران کے ریاستی رفاہی ادارے کے سربراہ فرہاد اگتار کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک شادی ناکام ہو جاتی ہے اور دارالحکومت تہران میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ جوڑوں کا شادی میں جلدی نہ کرنا اور ان کے اہل خانہ کا ان کے ساتھ اتفاق کرنے کی وجہ یہی بڑھتی ہوئی شرح طلاق ہے۔

ایران میں شادی ایک شاہانہ اور مہنگا معاملہ ہے جس کے اخراجات دولھے کا خاندان برداشت کرتا ہے اور اگر طلاق ہو جائے تو دولھے کو مہر کی رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔

اس لیے اگر شادی ناکام ہو تو مردوں پر اس کا شدید معاشی دباؤ پڑتا ہے اور وہ اکثر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای بھی اس بحث میں شامل ہو گئے ہیں۔

ایرانی خواتین کو بھی شادی کی ناکامی پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلامی قوانین کے تحت خواتین کے لیے طلاق لینا آسان نہیں ہے اور اولاد کی تحویل کا قانون بھی والد کے حق میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی معاشرے میں مطلقہ عورتوں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

مرجان اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ اراک کے شہر میں رہتی تھیں۔ ان کہنا ہے کہ انھیں چار مرتبہ اپنا گھر تبدیل کرنا پڑا کیونکہ جونھی مالکِ مکان کو پتہ چلتا کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں تو وہ ان کو فوراً مکان خالی کرنے کا کہتے۔

قانون دان اور عورتوں کے حقوق کی سرگرم کارکن مہرانگیز کار کا ایک اور اہم مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہنا ہے کہ کیونکہ سفید شادی قانونی طور پر ناجائز ہے اس لیے اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے تو جوڑوں کے لیے کوئی قانونی مدد دستیاب نہیں ہے۔

اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی بھی ہو تو وہ پولیس کے پاس نہیں جا سکتی کیونکہ اسے اور اس کے بوائے فرینڈ کو زنا کے الزام میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس سال موسمِ گرما میں تہران کے گورنر کے دفتر میں تعینات سماجی اور ثقافتی امور کے سربراہ سیاواش شہریار نے اعلان کیا تھا کہ سفید شادیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

مگر ماہرِ سماجیات مہرداد داروشپور کا خیال ہے کہ قانون سازی کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے رواج کو نہیں دبایا جا سکتا۔

ان کے مطابق حکومت اس کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کے باجود ناکام ہوگی کیونکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے سے اور جدت کو روکنا ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں