مہدی مسرور: بھارت کا ’سائبر جہادی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دولت اسلامیہ کی خبریں اور اس کے شام اور عراق میں عروج کے بارے میں ٹویٹ کیے جاتے تھے

ٹوئٹر پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی تشہیر کرنے کے الزام میں بنگلور سے گرفتار ہونے والے 24 سالہ مہدی مسرور بسواس نے مغربی بنگال سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس وقت بنگلور میں ایک بین الاقوامی کمپنی میں کام کر رہے تھے۔

سنیچر کو جب پولیس بنگلور کے شمالی علاقے میں واقع ان کے ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں پہنچی تو پولیس کے مطابق انھوں نے بغیر کسی دباؤ کے قبول کیا کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ @ShamiWitness وہی چلاتے ہیں۔

بنگلور پولیس کے ڈپٹی کمشنر (جرائم) ابھیشیک گوئل نے بی بی سی کو بتایا: ’ابھی تک جو معلومات ملی ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ خود ہی اس طرف مائل ہوئے، جنھوں نے انٹرنیٹ پر اسلام، عراق میں دولتِ اسلامیہ، اسرائیل، غزہ، شام، مصر وغیرہ کے بارے میں بہت کچھ پڑھ رکھا ہے۔‘

مہدی کے والد ڈاکٹر مكال بسواس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، میں ابھی 25 نومبر کو ہی لوٹا ہوں۔ وہ صبح آٹھ بجے سے رات نو بجے تک نوکری پر ہوتے تھے۔ وہ کبھی بھی مذہب کے بارے میں بات نہیں کرتے تھے۔نماز کے لیے انھیں زبردستی بھیجنا پڑتا تھا۔ وہ کس طرح اس معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں۔‘

چینل فور نے مہدی کو ہدف بنایا اور اسے دولتِ اسلامیہ کی تشہیر کرنے والا بتایا تاہم مہدی عربی نہیں جانتے ہیں اور اس نے گوگل سے ترجمے کی مدد سے شام اور اس کے آس پاس کے علاقے کے بارے میں 2003 سے ہی کافی معلومات حاصل کر رکھی ہیں۔

مہدی نے آہستہ آہستہ دولتِ اسلامیہ کے بارے میں ٹویٹ کرنا شروع کیا

تصویر کے کاپی رائٹ IMRAN QURAISHI
Image caption ’مہدی بنیادی طور پر انٹرنیٹ پر فعال تھے اور ابھی تک ان کے کسی سے منسلک ہونے کی بات سامنے نہیں آئی ہے‘

پولیس اہلکار ابھیشیک گوئل نے مزید بتایا کہ ’ٹوئٹر پر انھیں اتنے فالورز پروفائل مل گئے کہ وہ ’سائبر دنیا‘ کی ایک اہم شخصیت بن گئے۔‘

ان کے ٹوئٹر پر 17000 سے زائد فالورز میں سے ان کے مخالف بھی شامل تھے اور فالورز میں میڈیا کے کچھ ادارے بھی شامل تھے جو مہدی کے ٹویٹ سے بریکنگ نیوز حاصل کرنے کے لیے فالورز پروفائل بنے تھے۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ مہدی کی توجہ ہندوستان پر مرکوز نہیں تھا۔ وہ شیعہ سنی جدوجہد، فلسطین، امریکہ اور مصر کے تعلقات کے بارے میں زیادہ فکرمند تھے اور اس علاقے میں ہو رہے واقعات سے متاثر ہوئے تھے۔‘

پولیس ابھی تک اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ان کے کوئی مقامی ذرائع تھے یا انھوں نے ہندوستان میں کسی کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی تھی۔

مہدی ہندوستان کی ایک بین الاقوامی کمپنی کے فوڈ ڈویژن میں 5.3 لاکھ روپے کی سالانہ تنخوا پر سال 2012 سے کام کر رہے تھے۔

اس کمپنی نے انھیں کیمپس پروگرام کے تحت ملازمت دی تھی۔

رات میں سوشل میڈیا کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قابض ہے

بنگلور پولیس کے سربراہ ایم این ریڈی نے بتایا کہ’وہ کام کے بعد سیدھے گھر چلے جاتے تھے اور دیر رات تک انٹرنیٹ پر سرگرم رہتے تھے۔‘

’سوشل میڈیا کے ذریعے وہ غیر ملکی شدت پسندوں خاص کر برطانوی شدت پسندوں سے رابطے میں تھے۔‘

مہدی مسرور بسواس نے 60 جی بی ماہانہ ڈیٹا کا انٹرنیٹ کنکشن لے رکھا تھا اور انٹرنیٹ پر اپنی شناخت چھپا رکھی تھی۔

مہدی کے والد مغربی بنگال میں بجلی کی ترسیل کے محکمے میں انجینیئر تھے اور اب ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ وہ اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ اپنے آبائی ریاست میں ہی رہتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ’مہدی بنیادی طور پر انٹرنیٹ پر فعال تھے اور ابھی تک ان کے کسی سے منسلک ہونے کی بات سامنے نہیں آئی ہے۔‘

اسی بارے میں