نازک جامدانی پر کام کرتی جادوئی انگلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بنگلا دیش کو اکثر بڑے پیمانے پر مارکیٹ کے لئے سستے کپڑے تیارکرنے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، لیکن نازک اور قیمتی جامدانی کپڑا بھی یہیں بنایا جاتا ہے

بنگلا دیش کو اکثر بڑے پیمانے پر مارکیٹ کے لیے سستے کپڑے تیار کرنے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ لیکن نازک اور قیمتی جامدانی کپڑا بھی یہیں بنایا جاتا ہے اور اس کو بنانے والے کاریگروں کی بہت مانگ ہے۔

میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے باہر دریائے لکشہ کے کنارے پر واقع دھوپ کی تپش کی وجہ سے تندور کی طرح گرم فیکٹری میں کھڑا ہوں۔

اندر بلب کی روشنی کے نیچے چھ کاریگر گرمی سے بالکل لاپرواہ بانس کی لوموں پر کام کر رہے ہیں۔

اس گندے سے کارخانے کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہاں انتہائی قیمتی جامدانی کپڑا بنایا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جامدانی کو بنانے کے لیے خصوصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے

فیکٹری کا مالک انور حسین نے کاریگروں کے کام میں خلل ڈالے بغیر لوموں کے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے بتایا ’جامدانی کو بنانے کے لیے خصوصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے یہ انتاہی قیمتی ہے۔ میرے کاریگر کسی نمونے کا سہارے لیے بغیر اپنے حافظے سے اس کی تخلیق کرتے ہیں۔‘

میں نے جامدانی کا لفظ پہلی بار بھارت میں ہیری نامی ایک ریٹائرڈ بینکر سے سنا تھا۔ اپنے پرانے کام کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ کولکتہ میں نوکری کرتا تھا تو وہاں کے بازار سے وہ اپنی بیوی کے لیے ڈھاکہ کی بنی ہوئی ساڑھیاں خریدتے تھے۔

’وہ جامدانی کے کپڑے سے بنی ہوئی ساڑھیاں بہت پسند کرتی ہے اور میں بھی۔ وہ اتنی ہلکی ہوتی ہیں جیسے انہیں ہوا میں بنایا گیا ہو۔ میں پیسے جمع کر کے اس کے لیے جامدانی کی ساڑھیاں خریدا کرتا تھا۔‘

اس کے قیمتی ہونے کی وجہ وہ پیچیدہ ڈیزائن جو کڑھائی یا چھپائی کے برعکس بڑی محنت سے ہاتھ سے بنتا ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت میں یہ ساڑھیاں دلھنوں میں بہت مقبول ہیں اور وہ ان کے لیے ہزاروں روپے ادا کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلا دیش اور بھارت میں یہ ساڑھیاں دلھنیں میں بہت مقبول ہیں

ڈھاکہ کی افراتفری اور شورشرابے کے برعکس اس کارخانے میں کسی بھی قسم کی کوئی مشینری کی آواز نہیں آرہی ہے۔ اگرچہ گرمی کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آرہا ہے مگر گرمی سے بےنیاز کاریگروں کی تمام تر توجہ اپنے کام پر ہے۔

حسین کے مطابق اس کے دستکار دریا کے کنارے دمیرا کی بستی میں سب سے زیادہ مشہورہیں۔ جامدانی کو بنانے والوں کا یہاں پر رہنا محض اتفاق نہیں بلکہ یہ علاقہ کئی سو سال سے دستکاری کے لیے مشہور ہے اور یہاں پر دستکار آباد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ alamy
Image caption اس طرح کے چند کارخانے اب بھی باقی ہیں

اگرچہ اب اس علاقے پر پٹ سن کی ملوں کا غلبہ ہے۔ لیکن حسین کی طرح کے چند کارخانے اب بھی باقی ہیں۔

یہ کارخانہ پرتعیش تو نہیں ہے پر اس کا ماحول ڈھاکہ کی ان فیکٹریوں جہاں بڑے پیمانے پر دنیا بھر کے لیے کپڑے بنائے جاتے ہیں سے بہت بہتر ہے۔

حسین کے کارخانے جہاں ایک ساڑھی بنانے میں تین سے چار ماہ کا وقت لگتا ہے۔ خواتین ملازمین کو اپنی مرضی کے اوقاتِ کار چننے کی سہولت حاصل ہے اور یہاں پر بچوں سے مشقت بھی نہیں لی جاتی ہے۔

حسین نےمسکراتے ہوئے مجھ سے کہا ’میرے ملازمین مالک ہیں میں نہیں۔‘

جامدانی بنانے کا فن ناپید ہوتا جا رہا ہے اور حسین جیسے کارخانہ مالکان جانتے ہیں کہ ماہر کاریگروں کو خوش رکھنے کے لیے انہیں سہولتیں دینی پڑیں گی۔

کارخانے سے نکلتے ہوئے میں نے حسین سے پوچھا کہ ایک اچھا جامدانی بنانے والا کیسے بنتا ہے؟ ان کا کہنا تھا ’سب سے پہلے،انہوں نے یہ فن باپ دادا سے سکھایا ہو اور ان کی پیٹھ مضبوط اور ان میں لگن ہونا ضروری ہے۔ آخر میں، اور سب سے اہم بات کہ وہ جادو کی انگلیوں کے مالک ہوں اور یہ سب تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں