کیا چین کی معیشت واقعی سب سے بڑی ہے؟

چین کی معیشت تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اعداد و شمار کے متعلق چین معیشت کا مقابلہ امریکہ سے تو جیت گیا لیکن کیا وہ انڈیا کا سامنا کر پائے گا

ایک سو چالیس برسوں میں پہلی مرتبہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس کے اس اعزاز پر اب چین نے قبضہ کر لیا ہے۔

چین کی معیشت اب تقریباً 17.6 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو کہ امریکہ کی 17.4 کھرب ڈالر سے ذرا زیادہ ہے۔

1872 کے بعد جب امریکہ کی معیشت برطانیہ سے آگے بڑھ گئی تھی یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی نے اسے پچھاڑا ہو۔

آئی ایم ایف یہ اعداد و شمار قوتِ خرید یہ پرچیزنگ پاور پیریٹی (پی پی پی) کو سامنے رکھتے ہوئے نکالتی ہے۔ ان اعداد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ مختلف ممالک میں اپنے پیسے سے کتنا کچھ خرید سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق پی پی پی ایڈجسٹمنٹ کے بغیر چین کی معیشت کا تخمینہ 10.3 کھرب ڈالر سے بھی کم ہے۔

لیکن چین کی طرف سے پیش کیے جانے والے جی ڈی پی اعداد پر کس طرح بھروسہ کیا جائے جن پر تو ماضی میں موجودہ وزیرِ اعظم لی کیکیانگ بھی شک کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے بھیجے گئے ایک سفارتی پیغام کے سامنے آنے سے پتہ چلا ہے کہ سنہ 2007 میں لی نے، جو کہ اس وقت لیاؤننگ صوبے کے سیکریٹری جنرل تھے، امریکی سفیر کو بتایا تھا کہ چین کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار تو حوالے کے لیے خود ہی اخذ کر لیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ XINHUA
Image caption آبادی اور پیداوار کے حساب سے تو چین کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہی ہونا چاہیے

کتاب ’متھ بسٹنگ چائناز نمبرز‘ کے مصنف میتھو کریب کہتے ہیں کہ 1.36 ارب کی آبادی کے ساتھ تو بس چین کو ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونا چاہیے۔ وہ گزشتہ بیس سال سے چین کے اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں۔

چین کے اس نئے اعزاز کے ردِ عمل میں انھوں نے کہا: ’تو پھر کیا ہوا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ فی کس قوتِ خرید کو دیکھیں تو شاید چین کا ایڈجسٹڈ پی پی پی جو کہ 11,868 ڈالر ہے امریکہ (53,001) سے تو کیا ترکمانستان (12,863) اور سرینام (16,080) ڈالر سے بھی کم ہے۔

سوال یہ ہے کہ چین کی معیشت کا اندازہ لگانا کتنا آسان ہے؟ کریب کہتے ہیں کہ یہ مشکل کام ہے۔ ’سب سے اہم چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ جو توڑ مروڑ دیہات اور صوبائی سطح پر کی جاتی ہے تو اسے ہی بڑھا کر کے اعداد و شمار بڑھا دیے جاتے ہیں۔ ‘

’برسوں برس سے ہر صوبے کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار قومی سطح سے زیادہ بتائے جاتے ہیں، جو کہ منطقی اور ریاضی حساب سے نہیں ہو سکتا۔‘

وہ اس کا کچھ الزام کرپشن کو بھی دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ ملک کا بڑا سائز اور تیزی سے پھلنے پھولنے کی رفتار بھی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے سب سے بڑی معیشت کی پوزیشن 142 برس تک برقرار رکھی، ہو سکتا ہے کہ چین یہ ریکارڈ زیادہ دیر تک نہ رکھ سکے کیونکہ آئی ایم ایف اور دوسرے اداروں کی اقتصادی پیش گوئیوں کے مطابق 2100 تک انڈیا ان دونوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

اسی بارے میں