کشمیر میں مودی ماڈل کیوں نہیں چلا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی جے پی نے 87 میں سے 44 نشستیں جیتنے کا ہدف طے کیا تھا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ماہ پر محیط انتخابی عمل سکیورٹی پابندیوں، قدغنوں، تشدد اور بھاری پولنگ سے عبارت رہا۔

کشمیر کی 63 سالہ انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی بھی اس بار یہاں کے انتخابی ہنگاموں پر غالب تھی۔

پارٹی نے ’جمہوری طریقہ پر کشمیر کو فتح‘ کرنے کے لیے 87 میں سے 44 نشستیں جیتنے کا ہدف طے کیا اور اس کے لیے انتہائی مہنگی اور جارحانہ میڈیا مہم چھیڑی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ ہفتوں میں کشمیر کے نو دورے کیے۔ اس کے علاوہ پارٹی صدر امیت شاہ کے علاوہ ارون جیٹلی، راج ناتھ سنگھ اور دیگر کئی مرکزی رہنماؤں نے متعدد بار کشمیر میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا۔

بی جے پی نے کشمیر میں مسلمان چہروں کو آگے لا کر واضح عندیہ دیا کہ یہ پارٹی محض حکومت پر قبضہ چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ متنازع مسلم کش عزائم کو خیرباد کہہ چکی ہے۔ مقامی اخبارات میں نریندر مودی کی اس ’بدلتی سوچ‘ پر بھی تبصرے کیے گئے۔

بی جے پی کے جلسوں میں کشمیری نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد ہوتی تھی۔ بظاہر یہ سب ایک منظم منصوبے کے تحت ہورہا تھا، اور بھارتی میڈیا کا غالب حلقہ یہ اشارے دیتا رہا کہ کشمیر کی نئی حکومت بی جے پی کی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایک اندازے کے مطابق بی جے پی اور کانگریس کو 40 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی

لیکن بیس دسمبر کو انتخابات کا آخری مرحلہ اختتام کو پہنچتے ہی ایسے اندازے سامنے آئے ہیں جن سے لگتا ہے کہ بی جے پی کا ’مشن 44‘ ایک پبلسٹی بلندڑ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ بی جے پی کی موجودہ 11 نشستوں میں اضافہ نہیں ہوگا، لیکن یہ تقریباً واضح ہوچکا ہے کہ اس پارٹی کے لیے جموں سے بھی متوقع نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

علیحدگی پسندوں کی ’بائیکاٹ سیاست‘ پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ انھیں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ علیحدگی پسند قیادت کی عدم بصیرت اور مذاکرتی سیاست میں ناتجربہ کاری اپنی جگہ، لیکن کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ووٹنگ کا رُخ دہلی کی حکمرانی کا عوامی اعتراف نہیں کہا جا سکتا۔

نریندرمودی کہ زیرِ قیادت حکومت ہند کو کشمیر الیکشن سے دو سبق ملے ہیں۔ ایک یہ کہ کشمیر کی غالب اکثریت نئی دہلی کی براہ راست حکمرانی پر کبھی مطمئن نہیں ہوسکتی۔ دوسرا یہ کہ اقتدار کی سیاست کتنے ہی لبھاونے نعروں میں لپیٹی جائے کسی بھی جماعت کی نظریاتی اساس عوامی نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہوتی۔

انتخابات کے پانچوں مراحل میں ووٹروں کی آرا تقریباً یکساں تھیں۔ ہر بار لوگوں نے ہڑتال کی، لیکن ووٹنگ کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے پولنگ مراکز کا رخ کررہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مودی نے کشمیر کو فتح کرنے کے لیے انتہائی مہنگی اور جارحانہ میڈیا مہم چھیڑی

بھارتی میڈیا اور بعض اداروں کے ایگزٹ پول کے مطابق نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو کل ملا کر 50 سے زائد نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ ایک اندازے کے مطابق بی جے پی اور کانگریس کو 40 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی۔

بی جے پی اور کانگریس بھارت کی قومی جماعتیں ہیں اور دونوں کا موقف یہ ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اس کے برعکس نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی علاقائی جماعتیں ہیں اور دونوں الگ الگ لہجوں اور الفاظ میں کشمیر کی خود حکمرانی کی وکالت کرتی ہیں۔

دونوں تنظیمیں پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک اہم فریق مانتی ہیں اور یہاں کی مسلح قیادت کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہیں۔

اگر ان انتخابات میں ان ہی دو جماعتوں کو سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں تو ووٹ کی سمت صاف ظاہر ہے۔ کم از کم یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ ووٹ کشمیر کی بھارتی وفاق سے آئینی آزادی کے لیے دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نریندر مودی کا کشمیر ماڈل انتخابی فتح کی جلدبازی میں بنایا گیا تھا لہذا اس کی ناکامی یقینی تھی

فی الوقت کشمیر کی مقامی سیاست مکمل آزادی، بھارتی کنٹرول کے تحت آئینی خودمختاری اور بھارت کے ساتھ انضمام کی نظریاتی تثلیث پر مشتمل ہے۔

کشمیر کی تاریخ اور عوام کا مزاحمتی مزاج دیکھتے ہوئے یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ بھارتی وفاق میں کشمیر کا مکمل انضمام کشمیر کا مقبول سیاسی نعرہ نہیں بن سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی جیسی سخت گیر جماعت نے بھی کشمیر میں اس نعرے سے احتراز کیا اور ووٹروں کو تعمیرو ترقی اور آسودگی کے خواب دکھائے۔

سماجی رضاکار عبدالقیوم کہتے ہیں: ’سیاسی مستقبل اپنی مرضی سے طے کرنے کی خواہش یہاں اس قدر گہری ہے کہ اگر آپ اس خواہش کو فوجی قوت سے دبائیں گے، تو یہ دوسرے ذرائع سے سر اُبھارے گی۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت جو بھی ہو کشمیر کی 87 رکنی اسمبلی میں علیحدگی پسندی اور نیم علیحدگی پسندی کی ہی گونج ہوگی۔ ان زمینی حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ نریندر مودی کا کشمیر ماڈل انتخابی فتح کی جلدبازی میں بنایا گیا تھا لہذا اس کی ناکامی یقینی تھی۔

اسی بارے میں