غلام، مصلح اور پھر حکمران: ہندوستان میں افریقیوں کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ تصویر ایک عوامی غسل گاہ کی ہے جو 17ویں صدی میں ایک حبشی خواجہ سرا نے تعمیر کرائی تھی

تجارت، موسیقی، مذہب، فنون لطیفہ اور فن تعمیر میں ہندوستان اور افریقہ کے درمیان بہت سی تاریخی مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن ایسا کم ہی ہوا ہے جب دنیا کے ان دو خطوں کے درمیان تاریخی تعلق پر کوئی بحث ہوئی ہو۔

زیادہ تر افریقیوں نے ہندوستان کا سفر اگرچہ غلاموں یا تاجروں کے شکل میں کیا تھا، تاہم ان میں سے بے شمار نے آخر کار ہندوستان میں ہی سکونت اختیار کر لی اور یہاں کی مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال، فتوحات اور جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ان میں کچھ کا شمار ہندوستان کے بڑے حکمرانوں اور جنگی اور سیاسی حکمت عملی کے ماہرین میں ہوتا ہے۔

مغربی بھارت کے شہر احمد نگر کے ملک انبار کا شمار ایسے ہی افریقیوں میں ہوتا ہے۔ ملک انبار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے وقت کے طاقتور مغل حکمرانوں سے ٹکر لی تھی جو شمالی بھارت میں اپنا سکہ جما چکے تھے۔

نیو یارک پبلک لائبریری سے منسلک سیاہ فام لوگوں کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ادارے ’شومبرگ سینٹر فار ریسرچ اِن بلیک ہِسٹری‘ نے حال ہی میں دہلی میں ایک نمائش کا اہتمام کیا۔ اس نمائش کا مقصد ہندوستان کی تاریخ میں افریقہ کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔

ہندوستان پہنچنے والے زیادہ تر افریقیوں کا تعلق افریقہ کے اس علاقے سے تھا جو آج کل ایتھیوپیا کا حصہ ہے، جسے ماضی میں سلطنت ابی سینیا یا حبشہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسی حوالے سے برصغیر میں ان افریقیوں کو حبشی کہا جاتا تھا۔

شومبرگ سینٹر سے منسلک ڈاکٹر سلوین ڈیوف کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں افریقیوں کی کامیابی کی وجہ ان کی عسکری طاقت اور انتظامی صلاحیتیں تھیں۔

ڈاکٹر سلیون کہتی ہیں کہ افریقی مردوں کو خاص طور پر سپاہی، محلوں کے محافظ یا بادشاہ اور راجاؤں کے ذاتی محافظوں کی حیثیت میں بھرتی کیا گیا، تاہم وہ انتظامی صلاحیتوں کی بدولت ترقی کرتے کرتے جنرل، بحریہ کے سربراہ (امیر البحر) بنے اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 17ویں صدی کی کپڑے پر بنی اس پینٹنگ میں دکن کے سلطان کے شاہی جلوس میں افریقی النسل محافظ بھی دکھائی دے رہے ہیں

دہلی میں ہونے والی نمائش کے دوسرے منتظم کینیتھ رابِنز کے بقول ہندوستانیوں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ افریقی نہ صرف یہاں کی کئی سلطنتوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے بلکہ انھوں نے ہندوستان میں اپنی بادشاہتیں بھی قائم کیں۔

’تاریخی شواہد کے مطابق افریقی چوتھی صدی عیسوی میں ہندوستان پہنچ چکے تھے، لیکن بطور تاجر، فنکار، حکمران، ماہر تعمیرات اور مصلح ان کی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف زیادہ تر 14ویں سے 17ویں صدی کی درمیان ہوا۔‘

17ویں صدی کی اس پینٹنگ میں دکن کے سلطان عبداللہ قطب شاہ کا جلوس دیکھا جا سکتا ہے جس میں سلطان کی فوج میں افریقی سپاہی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1887 کی اس پینٹنگ میں محور رقص مرد ’شیدی دھمال‘ میں مصروف ہیں جو افریقی صوفی مسلمان اپنے ساتھ ہندوستان لائے

جنوبی ہندوستان میں دکن کے سلطان کی فوج کے علاوہ افریقی مغربی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں بھی اہم عہدوں تک پہنچے۔ ان میں کچھ حبشی اپنے ساتھ افریقہ کی روایتی موسیقی اور صوفی اسلام بھی ہندوستان لائے۔

مسٹر رابِنز کہتے ہیں کہ ہندوستان کے سلاطین کے اپنے افریقی سپاہیوں پر انحصار کی ایک وجہ یہ تھی کہ شمالی ہندوستان کے مغل حکمران سلاطین کو افغانستان اور وسطی ایشیائی علاقوں سے سپاہی بھرتی کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

کچھ کے علاقے کی سنہ 1887 کی اس پینٹنگ میں شیدی دھمال کا منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ صوفی رقص شیدی مسلمان اپنے ساتھ مشرقی افریقہ سے ہندوستان لائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیجاپور (کرناٹکہ) کا یہ قبرستان افریقی ماہر تعمیرات ملک ساندل کی تخلیق ہے جو اس نے سنہ1597 کے بعد تعمیر کیا تھا

ڈاکٹر سلوین ڈیوف کے بقول ہندوستانی حکمران افریقیوں پر بھروسہ کرتے تھے اور ان کی صلاحیتوں کے بھی مداح تھے۔ ’یہ بات سچ ہے۔ خاص طور ان علاقوں میں جہاں موروثی حمکرانی کمزور تھی اور مختلف راجاؤں اور ان کے گروہوں کے درمیان اقتدار کی چپقلش ہوتی رہتی تھی۔ دکن کا علاقہ اسی کی ایک مثال ہے۔‘

کبھی کبھار افریقی بنگال کی طرح ہندوستان کے کچھ دوسرے علاقوں میں بھی طاقت چھین کر اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ سنہ 1480 میں بنگال میں ایسا ہی ہوا اور ’ایبی سینیائی جماعت‘ نامی گروہ نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے علاوہ افریقی ہندوستان کے مغربی ساحلی علاقوں جنجیرا اور سچن میں بھی حکمرانی کرتے رہے۔

ڈاکٹر سلوین ڈیوف کے بقول ’اس کے علاوہ کچھ مقامات پر افریقی گروہوں کی بجائے افریقیوں نے ذاتی حیثیت میں بھی اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کی مثالوں میں جنوبی ہندوستان میں ادونی کے مقام پر شیدی مسعود اور پھر مغربی ہندوستان میں احمد نگر میں ملک انبار کا اقتدار سنبھالنا شامل ہیں۔‘

اوپر دی ہوئی تصویر میں ایک ایسا مقام دکھایا گیا ہے جہاں کسی کی آخری رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ یہ عمارت سنہ 1587 کے بعد کے بیجاپور (موجودہ کرناٹکہ) کے علاقے میں تھی جس کا نقشہ ملک سندل نے بنایا تھا جو خواجہ سرا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1590 کی اس پینٹنگ میں ایک ہندوستانی شہزادے کو ایک افریقی دعوت میں دیکھا جا سکتا ہے

سنہ 1590 کی اس پینٹنگ میں ایک ہندوستانی شہزادے کو ’حبشیوں کی سرزمین‘ یا مشرقی افریقہ میں دعوت کھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1640 کی اس پینٹنگ میں ہندوستانی فنکار کو افریقی سرود بجاتے دکھایا گیا ہے

افریقی اپنے ساتھ اپنی روایتی موسیقی بھی ہندوستان لائے۔ سنہ 1640 اور 1660 کے درمیانی عرصے کی نمائندگی کرتی ہوئی اس پینٹنگ میں ایک فنکار کو افریقی سرود بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1904 کی دکن کی اس تصویر میں بھی افریقی محافظ دیکھے جا سکتے ہیں

سنہ 1904 میں حیدرآباد دکن میں کھینچی گئی اس تصویر میں افریقی محافظوں کو شاہی قافلے کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افریقی انسل سلاطین میں سے سب سے زیادہ مشہور ملک انبار تھے جن کا مزار اورنگ آباد میں ہے

ہندوستان میں جس افریقی حکمران کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ ملک انبار تھے جو سنہ 1548 میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال سنہ 1626 میں ہوا۔ ان کا مزار آج بھی ضلع اورنگ آباد میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواب شیدی حیدر خان افریقیوں کی سلطنتِ سچن کے حاکم تھے

اس پینٹنگ میں سچن کے نواب شیدی حیدر خان کو دکھایا گیا ہے۔ گجرات میں افریقیوں کی سلطنتِ سچن سنہ 1791 میں قائم ہوئی۔ اس ریاست کی اپنی گھُڑ سوار فوج تھی اور سرکاری بینڈ بھی تھا جس میں افریقی سپاہی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ریاست کے فوجیوں کی اپنی وردیاں بھی تھیں اور ریاست کی اپنی کرنسی اور ڈاک کے ٹکٹ بھی تھے۔

سنہ 1948 میں جب شہزادوں کی چھوٹی چھوٹی ریاسوں کو بھارت میں ضم کیا گیا تو اس وقت سچن کی ریاست کی آبادی 26 ہزار تھی جس میں 85 فیصد ہندو اور13 فیصد مسلمان شامل تھے۔