الیکشن میں جموں اور کشمیر کی نظریاتی تقسیم واضح

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وادی میں بی جے پی کے 30 امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 12 ویں ریاستی اسمبلی کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو یہ دو الگ الگ ریاستوں کے نتائج معلوم ہوتے ہیں۔

کشمیر کی 63 سالہ انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابات کے دوران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں اور اسلام پسند حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کشمیر میں برتری حاصل کی ہے۔

مجموعی نتائج میں پی ڈی پی 28 سیٹیں لے کر سب سے بڑی پارٹی کے طور ابھری ہے جبکہ بی جے پی کو 25 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

کشمیر اسمبلی کی کل 87 نشتیں ہیں، جن میں سے 46 کشمیر، 37 جموں اور چار لداخ میں ہیں۔

جموں کی 37 سیٹوں میں سے 25 بی جے پی کو ملی ہیں اور باقی 12 دوسری جماعتوں کو جبکہ کشمیر میں 46 میں سے 30 نشستیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو ملی ہیں اور 16 دیگر جماعتوں میں بٹ گئی ہیں.

غور طلب ہے کہ بی جے پی نے انتہائی مہنگی اور جارحانہ میڈیا مہم کے ذریعہ باور کرایا تھا کہ وہ کشمیر سے بھی کئی نشستوں پر فتح پائے گی اور اپنے بل پر اگلی حکومت بنائے گی۔ لیکن وادی سے درجنوں مسلم چہرے سامنے لانے کے باوجود یہ جماعت وادی میں ایک بھی سیٹ پر جیت درج نہ کرا سکی۔

بی جے پی کی ڈاکٹر حنا بٹ، موتی کول، زبیر وانی، مسعود الحسن اور نیلم گاش سمیت قریب 30 امیدواروں کو وادی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نتائج کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ حکمران اتحاد کی قیادت کرنے والی نیشنل کانفرنس صرف 15 سیٹوں پر برتری حاصل کر پائی جبکہ اس کی اتحادی کانگریس کو 12 سیٹیں ملی ہیں۔

خود وزیراعلیٰ عمرعبداللہ بھی اپنے آبائی حلقے سونہ وار کی نشست ہار گئے۔ وہ بڈگام کی بیروہ سیٹ سے بھی لڑ رہے تھے، جہاں انھیں صرف نو سو ووٹوں کی برتری سے جیت حاصل ہو سکی۔ ان انتخابات میں سابق علیحدگی پسند رہنما سجاد غنی لون نے بھی دو سیٹیں حاصل کر کے اپنی پارٹی پیپلز کانفرنس کا مقامی اسمبلی میں داخلہ ممکن بنا دیا ہے۔

Image caption کشمیر اسمبلی کی کل 87 نشتیں ہیں، جن میں سے 46 کشمیر، 37 جموں اور چار لداخ میں ہیں

چونکہ کسی بھی گروپ کے پاس مطلوب اکثریت یعنی 44 نشستیں نہیں ہیں اور اس وجہ سے سوال یہ ہے کہ کشمیر کی 12ویں قانون ساز اسمبلی میں حکومت کون بنائے گا۔

نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمرعبداللہ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں کی وجہ سے وہ حکومت سازی کے لیے بی جے پی سے اشتراک نہیں کریں گے۔ فی الوقت سب سے بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرنے والی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے نتائج کا اعلان ہوتے ہی کہا کہ حکومت سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جو کشمیریوں کے لیے بہتر ثابت ہو۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کی کل ملا کر 37 نشستیں ہیں، جس کا مطلب یہ ہے انھیں حکومت سازی کے لیے سات ممبروں کی حمایت درکار ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نتائج میں پی ڈی پی 28 سیٹیں لے کر سب سے بڑی پارٹی کے طور ابھری

سجاد لون کی دو، کمیونسٹ پارٹی کی ایک اور چار آزاد امیدواروں کی حمایت کسی بھی اتحاد کے لیے ناگزیر ہوگی۔

ان انتخابات کے بعد جموں اور کشمیر کے خطوں کے درمیان سیاسی اور نظریاتی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پی ڈی پی کے ترجمان نعیم اختر نے بی بی سی کو بتایا: ’جس طرح جموں اور کشمیر کے ووٹروں نے الگ الگ نظریاتی دھاروں کی حمایت کی ہے، انھیں جوڑنا اور دونوں خطوں کے درمیان رواداری پیدا کرنا نئی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔‘

اسی بارے میں