کشمیر میں الیکشن کا مطلب رائے شماری نہیں:عمر عبداللہ

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ادھر ریاست کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مدت اقتدار کی آخری پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وادی میں ہونے والے پرامن انتخابات رائے شماری کا متبادل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کا محدود مقصد لوگوں کو بہتر انتظامیہ فراہم کرنا ہے اور یہ مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی پہلو نہیں ہو سکتے۔

پریس کانفرنس میں انھوں نے بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت کامر ڈاول کے اس بیان سے بھی اختلاف کیا ہے کہ جس میں انھوں نے کشمیر میں انتخابات کو پاکستان کے خلاف سٹریٹجک فتح قرار دیا تھا۔

عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کو ہند پاک تعلقات یا مسئلہ کشمیر سے جوڑنا غلط ہے۔ یہ رائے شماری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ کشمیر کے انتخابات کا محدود مقصد ہوتا ہے اور وہ لوگوں کو بہتر انتظامیہ فراہم کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے سوا انتخابات کی جو بھی تاویل کی جائے گی وہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بھی مسائل پیدا کرے گی۔‘

عمر عبداللہ نے نتائج کے بعد بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی اتحاد کو بھی خارج از امکان قرار دیا۔

انہوں نے کہا ’بے شک نریندر مودی بی جے پی کے بعض متنازع نعروں پر خاموش رہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پارٹی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے، یکساں سول کوڈ اور کشمیر کے بھارتی وفاق میں مکمل انضمام جیسے اپنے اہداف بھول چکی ہے۔‘

Image caption کشمیر میں انتخابات میں عوام کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے تھے

وزیرِ اعلی نے کہا کہ وہ ایسی جماعت کے ساتھ کوئی سیاسی اتحاد نہیں کر سکتے جبکہ ’ہندوستان میں مسلمانوں کو جبری طور مذہب تبدیل کروانے کے واقعات پر تو خود نریندر مودی بھی خاموش ہیں۔‘

خیال رہے کہ عمر عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس فی الوقت جموں و کشمیر میں ایک غیر مقبول سیاسی رہنما اور جماعت ہے کیونکہ ان کے دورِ حکومت میں ہی افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے 150 سے زائد نوجوان مارے گئے۔

اس کے علاوہ نہ صرف علیحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی بلکہ مذہبی اجتماعت پر بھی قدغنیں رہیں۔

16 سال قبل وجود میں آئی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کا دعوی ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کا بہترین متبادل ہے، لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پی ڈی پی یا نیشنل کانفرنس دونوں کو خاندانی راج کی سیاست کا تجربہ قرار دے کر کہا ہے کہ وہ لوگوں کو خاندانی راج سے آزادی دلانے آئے ہیں۔

جموں و کشمیر میں منگل کی صبح سے ہی میں ووٹوں کی گنتی کا کام جاری ہے۔

ریاستی اسمبلی کے نتائج میں 20 ہزار ووٹنگ مشینوں میں قید آٹھ سو سے زائد سیاسی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا جن میں خود وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ، ان کے حریف مفتی محمد سعید اور کانگریس کے مقامی رہنما غلام نبی آزاد اور سیف الدین سوز بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Urmilesh
Image caption بی جے پی نے ’مشن 44‘ کے عنوان سے انتہائی مہنگی اور جارحانہ میڈیا مہم چھیڑ کر کشمیر کو سیاسی طور ’فتح‘ کرنے کا اعلان کیا تھا

کشمیرکی انتخابی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ بھارت کی ہندو انتہاپسند جماعت بی جے پی بھی ایک سرگرم کردار کے طور اُبھر رہی ہے۔ اس پارٹی کے پاس فی الوقت 11 نشستیں ہیں اور ابتدائی رجحانات کے مطابق یہ تعداد دوگنی یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

کشمیر کی اسمبلی میں 87 نشستیں ہیں جن میں سے 44 پر الیکشن جیتنے والی جماعت یا گروپ اپنے طور پر حکومت سازی کا اہل ہوگا تاہم نتائج کے دوران کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت ملنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

کانگریس کی 17 سیٹیں ہیں تاہم اس پارٹی کو جموں میں کئی نشستوں پر بی جے پی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ حکمران نیشنل کانفرنس کی 28 نشستیں ہیں، لیکن اسے 20 کے قریب نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

16 سال قبل وجود میں آئی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس فی الوقت 21 سیٹیں ہیں اور یہ جماعت سب سے بڑی جماعت کے طور اُبھر سکتی ہے۔

بی جے پی نے ’مشن 44‘ کے عنوان سے انتہائی مہنگی اور جارحانہ میڈیا مہم چھیڑ کر کشمیر کو سیاسی طور ’فتح‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس مشن کی سربراہی پارٹی کے سربراہ امیت شاہ کر رہے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران وادی کے نو دورے کیے اور سرینگر میں بھی ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

کشمیر میں اگلی حکومت بھلے ہی بی جے پی کی نہ ہو، لیکن 40 لاکھ ووٹوں میں سے اگر بی جے پی صرف دو لاکھ ووٹ بھی لیتی ہے، تو یہ بی جے پی کا کشمیر میں حیران کن داخلہ ہوگا۔

اسی بارے میں