اٹل بہاری واجپائی کےلیے ’بھارت رتن‘ کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارتی حکومت نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور تحریک آزادی کے دور کے ایک ہندو نواز رہنما پنڈت مدن موہنمالویہ کو ملک کے اعلی ترین اعزاز ’بھارت رتن‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن حکومت کے اس فیصلے پر بعض سرکردہ سیاست دانوں اور اور مورخین نے سخت تنقید کی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک بار پھر سے ’بھارت رتن‘ جیسے اعزاز پر سیاست اور تعصب کے الزامات کا دور شروع ہوگیاہے۔

اس مسئلے پر سوشل میڈیا میں جہاں بحث چھڑی ہوئی ہے وہیں تنازعہ پر بی بی سی نے بعض نامور تجزیہ کاروں کی رائےجاننے کی کوشش کی۔

منی شنکر ایّر

کانگریس پارٹی کے رہنما منی شنکر ایّر کا کہنا ہے ’اٹل بہاری واجپائی جی کو بھارت رتن ملنا ہی چاہیے تھا خاص طور پر اس لیے کہ جب وہ حکومت میں تھے تب انھوں نے سنگھ پریوار (ہندو تنظیمیں) اور آر ایس ایس پر کچھ لگام لگا رکھی تھی۔ ان کی حکومت کے وقت کہیں کوئی فرقہ واریت نہیں پھیلی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک آدمی ہیں۔‘

لیکن انھوں نے مدن موہن مالویہ کو بھارت رتن دینے پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ انھیں یہ اعزاز دینے سے یہ بتانےکی کوشش کی جا رہی ہے کہ ’ تحریک آزادی میں ہم سب ایک نہیں تھے۔‘

’ان کے رول کو بڑھانے اور دوسروں کو کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تاریخ سے کھیلنے جیسا ہے۔ میرے خیال سےان کو یہ اعزاز اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ ہندو مہاسبھا کےصدر تھے، اس لیے نہیں کہ انھوں نے جنگ آزادی میں کتنا اہم کردار ادا کیا۔‘

منی شنکر ایّر کا کہنا تھا کہ مدن موہن مالویہ کے وقت تک تو ہندو مہاسبھا کنٹرول میں تھی۔’ان کے جانے کے بعد ہندو مہاسبھا ہاتھ سے نکل گئی۔‘

مؤرخ رام چندرگہا

نامور مؤرخ رام چندر گہا کا کہنا ہے کہ ’بھارت رتن‘ سے اب تک جن لوگوں کو نوازا گیا ہے اس فہرست کو دیکھتے ہوئے لگتا ہےکہ اٹل بہاری واجپائی کو یہ اعزاز ملنا ہی چاہیے۔

ان کے مطابق ’ اگر راجیو گاندھی، ایم جی آر جیسے لوگوں کویہ دیا جا سکتا ہے تو پھر اٹل بہاری واجپائی، جو وزیر اعظم رہے، 40 برس تک پارلیمنٹ میں رہے، بہترین مقرر رہے، صحیح زبان بولتے رہے، انھیں کیوں نہیں۔‘

’لیکن مدن موہن مالویہ کو یہ اعزاز دینا بالکل غلط ہے۔ تحریک آزادی میں ان کی شراکت بہت کم تھی۔‘

مسٹر گہا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی خود بنارس سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اس لیے وہ کسی بنارسی کو یہ اعزاز دیناچاہتے ہوں گے۔

’میرے خیال سے جن کا انتقال ہو گیا ہے انھیں یہ نہیں دینا چاہیے۔اتنا ہی نہیں سیاسی لیڈروں کو کم سے کم یہ اعزاز دیا جائے۔ اسے نان پولیٹكل بنانا چاہیے۔ اس کمیٹی سےسیاستدانوں کو ہٹایا جانا چاہیے تب جا کر ’بھارت رتن‘ کااحترام بڑھےگا۔‘

کیمونسٹ پارٹی کے رہنما محمد سلیم

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما محمد سلیم کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی فیصلے ہیں اور ’ ہم بائیں بازو کے لوگ حکومت کے طرف سے دیے گئے خطابات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب جیوتی باسو کو یہ خطاب دینے کی بات کی گئی توانکار کر دیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت رتن‘ ایک دو کو دیا جاتا تو بھی یہ رتن ہوتا، اب تو یہ ایک دم ہیرے جواہرات کی طرح تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آزادی کی لڑائی میں کوئی اہم کردار نہیں ہے۔

’واجپائی جی کو تو یہ لوگ گزشتہ پانچ سال سے یاد تک نہیں کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی گزشتہ 10 سال میں واجپائی جی کو بہت احترام دے کر رکھتی تو مانا جا سکتا تھا۔ مدن موہن مالویہ جی کے بارے میں بھی یہی کہنا ہے کہ سیاسی سوچ کی بنیاد پر یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔‘

’اگر اس طرح کے اعزازات سے نوازنا ہو تو مہاتما گوتم بدھ کودینا چاہیے۔ اس کے بعد بی جے پی جن 33 کروڑ دیوی دیوتاؤں کو تاریخی شخصیت مانتی ہے ان سب کو بھارت رتن دینا چاہیے۔‘

مدن موہن مالویہ کے پوتے گردھر مالویہ کا کہنا ہے کہ بھارت رتن میں تاخیر کی بات تو مانی جا سکتی ہے۔ ’مجھے ایسا لگتا ہےکہ مودی جی جب پہلی بار بنارس گئے اور وہاں ان کی مورتی پرحاضری دی تبھی انھوں نے سوچا ہوگا کہ انھیں بھارت رتن ملناچاہیے تھا۔اس لیے ہم لوگ تو ان کے شكرگزار ہیں۔‘

بھارتیہ جنتا پاردٹی کے ایک رہنما اور لال کرشن اڈوانی کے سابق پرسنل سیکریٹری سدھیندر کلکرنی نے بھی مدن موہن مالویہ کو بھارت رتن دینے پر نکتہ چینی کی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’ تحریک آزادی میں حصہ لینے والے افراد کے بھارت رتن دینا کوئی روایت نہیں ہے اور اس واقعے کے بعد ہی اس پر روک لگنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں