محبوبہ مفتی: نرم لہجے والی مضبوط خاتون

محبوبہ مفتی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محبوبہ مفتی اپنے والد کو ایک مرتبہ پھر کشمیر کا وزیرِ اعلیٰ بنوانا چاہتی ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ریاستی انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے زیادہ تر نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اس کامیابی کا سہرا اس کی صدر محبوبہ مفتی کے سر جاتا ہے۔

بھارت کے پہلے مسلمان وزیرِ داخلہ مفتی محمد سید کی بیٹی محبوبہ مفتی گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے کشمیر کی سیاست میں حصہ لینے کے بعد اب ایک اہم قوت بن کر ابھری ہیں۔

اگرچہ پی ڈی پی سنہ 1999 میں بنائی گئی تھی اور اس کے پہلے صدر مفتی سید ہی تھے لیکن پارٹی کی تعمیر اور ترقی کا زیادہ کریڈٹ محبوبہ کو ہی جاتا ہے۔

انھوں نے پارٹی میں درجات کو منظم کیا اور ریاستی اور پارلیمانی انتخابات میں انتخابی مہمات کی قیادت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے

محبوبہ مفتی نے 1996 میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر سیاست میں قدم رکھا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارتی حکومت نے جموں اور کشمیر کی اسمبلی میں انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔

جب انھوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تو اس وقت تک ان کو سیاست میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

کشمیر جیسے قدامت پسند معاشرے میں ان کا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ایک اہم فیصلہ تھا۔

کشمیر یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی محبوبہ مفتی نے اپنے والد کا ریاست کا وزیرِ اعلیٰ بننے کا خواب پورا کرنے میں مدد کی۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے مفتی سید نے تقریباً 27 سال انتظار کیا تھا۔

مفتی سید 1996 میں کانگریس پارٹی میں اس وقت سے ہیں جب کوئی بھی یہاں بھارتی آئین کے تحت انتخابات میں حصہ لینے سے گھبراتا تھا۔ انھوں نے اپنی بیوی گلشن بیگم ک

و پہلگام سے الیکشن لڑوایا جب کہ محبوبہ نے بجبھرا کے انتخابی حلقے سے الیکشن لڑا۔

محبوبہ تو الیکشن جیت گئیں لیکن ان کی والدہ نہ جیت سکیں۔ اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ حادثاتی طور پر سیاست میں آئیں۔ ’لیکن جب میں سیاست میں آئی تو مجھے لگا کہ یہ ایسی جگہ ہے جسے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

علیحدگی پسند تحریک کے عروج پر جب بھارتی مسلح افواج پر اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جاتا تو وہ ہلاک کیے جانے والے جنگجوؤں کے گھر جا کر افسوس کرتیں۔

وہ ان جلے ہوئے دیہات اور اجڑے گھروں میں دوسری خواتین کی طرح روتیں اور بین کرتیں اور اسی طرح وہ آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی گئیں۔

1999 میں محبوبہ مفتی اور ان کے والد نے کانگریس پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ انھیں محسوس ہوا تھا کہ کانگریس کشمیر کے عوام کو قبول نہیں ہے۔

2002 میں پی ڈی پی نے کانگریس جماعت کے ساتھ مل کر کشمیر میں ایک اتحادی حکومت بنائی اور مفتی سید اس کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔

تین سال کے بعد انھوں نے استعفیٰ دیا اور کانگریس کو اپنا وزیرِ اعلیٰ منتخب کرنے دیا۔

جنوری 2009 میں جب کانگریس نے عمر عبداللہ کی نیشنل کانگریس پارٹی سے اتحاد کا فیصلہ کیا تو پی ڈی پی نے حزبِ مخالف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے انتخابات میں محبوبہ مفتی نے، جو کہ اب ریاستی اسمبلی کی رکن ہیں، گھر گھر جا کر لوگوں سے کہا کہ وہ پی ڈی پی کے نمائندوں کی حمایت میں ووٹ ڈالیں۔

ان کے ایک پارٹی ورکر کہتے ہیں کہ جماعت کے لیے وہ انتھک کام کرتی ہیں۔ ’وہ انتخابی مہم میں صبح آٹھ بجے نکلتی تھیں اور رات نو بجے گھر واپس پہنچتی تھیں۔‘

اب ان کی ساری محنت رنگ لائی ہے۔ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد اب یقینی ہے کہ ان کی جماعت ہی اقتدار میں آئے گی اور وہ اپنے والد کو پورے چھ برس کے لیے ریاست کا وزیرِ اعلیٰ بنوا سکیں گی۔

بس ان کو ایک بات کا غم ہے کہ وہ اپنی دو بیٹیوں کو زیادہ وقت نہیں دے سکتیں۔

’لیکن ان کو بھی یہ معلوم ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ میں ایک فل ٹائم سیاسی ورکر ہوں۔‘

اسی بارے میں