’پاکستان اب بھی دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمان لکھوی کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہے

بھارت نے پاکستان میں عدالت کی جانب سے ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کا حکم معطل کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں پیر کو نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے پیر کو ہی پاکستانی حکومت کی جانب سے ذکی لکھوی کی نظربندی کا حکم معطل کیا تھا۔

ذکی لکھوی کو حکومت نے حال ہی میں اس وقت خدشۂ نقضِ امن کے تحت تین ماہ کے لیے نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملہ سازش کیس میں ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

دہلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے پاکستانی ہائی کمشنر سے بات چیت کے دوران اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ لکھوی کو جیل میں رکھنے کے لیے پاکستان میں استغاثہ کی جانب سے موثر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

بیان کےمطابق سجاتا سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ممبئی پر حملوں میں ذکی الرحمان لکھوی کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے ان یقین دہانیوں کے باوجود کہ ممبئی پر حملوں کے ملزمان کے خلاف تیزی سے کارروائی کی جائے گی، اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، یہ وعدے پورے نہیں کیے گئے ہیں اور پاکستان اب بھی دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔‘

سیکریٹری خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’بھارت امید کرتا ہے کہ ممبئی حملوں کے مجرم لوگوں کو سزا دلانے کے سلسلے میں جو وعدے کیے گئے ہیں پاکستان انھیں نبھائے گا۔‘

اسی حوالے سے حکمراں جماعت بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ حکومت پاکستان نے پشاور کے حملے کے بعد اچھے اور برے دہشت گردوں میں امتیاز نہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور ہونے پر بھی حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرے تاہم تاحال پاکستانی حکام نے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

اسی بارے میں